16ویں صدی کے دوران لکھی گئی ناسٹرا ڈیمس کی شھرت یافتہ کتاب17ویں صدی میں یورپ کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو کر بازار میں آگئی اور اتنی معروف ہوئی کہ ناسٹرا ڈیمس ان کتابوں کی بدولت آج بھی معروف و زبان زد عام ہے۔ ناسٹرا ڈیمس کی تاریخ اور اسکی کتاب کے مندرجات سے ناواقف یا کم واقف افراد اور دنیا بھر کے سطحی معلومات رکھنے والے افراد کی نظر میں یہ ایک غیر معمولی اور سچی پیشن گوئیوں پر مبنی ایک کتاب ہے، جبکہ حقیقت اسکے بالکل برعکس ہے۔ فرانسیسی زبان میں لکھی گئی اس کی یہ کتاب سینکڑوں ایسے گُنگ اور بے مفہوم فقروں/رباعیوں پر مبنی ہے جن کا کوئی واضح اور مشخص مطلب نہیں بلکہ بعض اوقات تضادات پر مبنی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ناسٹرا ڈیمس کی لکھی ہوئی اس کتاب میں بیان ہونے والی پیشن گویاں درست کیوں ثابت ہوتی ہیں؟ اس کا سادہ سا جواب معروف مغربی فلسفی ویل ڈورانٹ نے اپنی ایک کتاب ’’تاریخ تمدن‘‘ میں بیان کیا ہے اس کے بقول کتاب کی عبارتیں اتنی ماہرانہ اور پیچیدہ انداز میں لکھی گئی ہیں کہ وہ آنے والے زمانے میں پیش آنے والے واقعات پر بڑی آسانی سے منطبق کر دی جاتی ہیں،

جبکہ حقیقت یہ تھی کہ ناسٹرا ڈیمس قریب الوقع حادثات کی پیشن گوئی کرنے سے لاچار تھا، ویل ڈورانٹ اپنی اسی کتاب میں ایک اور جگہ اس حقیقت کو منکشف کرتے ہوئے کہتا ہے کہ: ناسٹرا ڈیمس نے برطانوی شہزادہ ’’ چارلس نہم‘‘ کے متعلق دعویٰ کیا تھا کہ وہ نوے سال زندہ رہے گا جبکہ اس پیشن گوئی کے ٹھیک دس دسال بعد شہزادہ ۲۴سال کی عمر میں اس دنیا سے چل بسا۔

یہ سب چیزیں اتفاقی اور معمول کے مطابق نہیں ہیں بلکہ ایک طے شدہ منصوبہ کے تحت یہ سب چیزیں انجام پائی ہیں اور ان سب چیزوں سے جہاں ایک طرف فری میسن کی قدامت کا اندازہ ہوتا ہے اور دوسری طرف یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ان کو کسی نہ کسی طریقہ سے افکار عمومی اور دنیا پر اثر انداز ہونا ہے تاکہ وسیع سطح پر انسانی فکروں کو خرافات و اوہام کی بنیاد پر حقایق عالم اور دینی اعتقادات کو سست کرکے غافل کردیں کہ جس کا نتیجہ نا محسوس انداز میں شیطانی قوتوں کی بالادستی کے قائل ہونے کی صورت میں نکلنا ہے اور یہ وہ کام ہے جو ’’فری میسن‘‘ کے اہداف میں سے ایک ہدف ہے۔
یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ فری میسنری برطانیہ اور امریکا میں طویل عرصہ سیاہ و سفید کی مالک رہی ہے۔ خاندان اور نسلوں کی تاریخ سے متعلق معلومات فراہم کرنے والی مشہور ویب سائٹ ’’اینسٹری‘‘ (Ancestry.com) نے حال ہی میں ایسے ’’بیس لاکھ‘‘ افراد کی فہرست شائع کی ہے جو 1733ء تا 1923ء فری میسنری کے رکن رہے۔ ان افراد میں کئی امریکی صدور‘ برطانوی وزرائے اعظم‘ جرنیل‘ جج ‘ سرکاری افسر اور پولیس افسر شامل ہیں۔ گویا اس فہرست نے تصدیق کر دی کہ دنیا کے سیاسی‘ مذہبی‘ معاشرتی اور ثقافتی حالات حسب منشا انجام دینے کی خاطر حکمران طبقوں کی تنظیمیں یا اتحاد خفیہ طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ اور ممکن ہے، اب بھی سرگرم عمل ہوں۔ آج بھی دنیا بھر میں ’’60لاکھ‘‘ افراد فری میسنری کے رکن ہیں۔ ان میں سے تین لاکھ امریکا‘ ڈھائی لاکھ برطانیہ ‘ دو لاکھ فرانس اور بقیہ مختلف ممالک میں بستے ہیں۔
بہرحال، فری میسن کی ابتداء اور اسکی تشکیل کس نے کی اس متعلق بالکل دقیق معلومات تو ہمارے پاس موجود نہیں ہیں لیکن یہ چیز مسلّم ہے کہ فری میسن ایک قدیم ترین اور دنیا بھر کے افراد پر مبنی ایک ایسی متحد خفیہ تنظیم ہے جس پر ہمیشہ دین یہود کے منحرف فرقوں اور سحر و جادو کے حامل افراد کا غلبہ رہا ہے۔

عقاید و نظریات
یہ بات پیش نظر رہے کہ فری میسن، دستیاب معلومات کے مطابق کوئی مذہبی فرقہ نہیں رہی، بلکہ ہمیشہ سے اپنے عالمی مقاصد اور تنظیمی ڈھانچہ کے پیش نظر اپنے آپ کو تمام ادیان و مذاہب اور فرقوں سے ماوراء فقط ’’عالمی برادری اور بھائی چارہ‘‘ کے نظریہ پر مبنی انجمن کے طور پر متعارف کراتی ہے۔
لیکن ایک واضح چیز یہ ہے کہ اس غیر جانبدار نظریہ کے حامل ہونے کے باوجود فری میسن ’’ایک واحد اور ماورائے بشر قوت‘‘ کی قائل ہے جو تمام طاقتوں سے بالا تر اور سب طاقتوں پر حاوی ہے اور وہ صرف ایک ہے۔ اب وہ خدا ہو یا کچھ اور، یہ مشخص نہیں ہے لیکن وہ ایک ماورائی و زبردست قوت ہے۔ اس نظریہ کی وجہ سے فری میسن نے اپنے آپ کو تمام فرقوں اور مذاہب سے تعلق رکھا ہوا ہے اور شاید یہی وہ وجہ ہے کہ اس انجمن میں تمام ادیان و مذاہب اور الہیٰ یا شیطانی نظریہ رکھنے والے لوگ شامل ہیں۔ فری میسن اس نظریہ کو رکھنے کے باوجود اپنے اراکین میں رائج زیادہ تر اعمال و رسومات میں مسیحیت کے بہت مشابہ ہے۔ بہت سارے اعمال اور رسومات مسیحیت سے بہت زیادہ شباہت رکھتے ہیں۔ میسنری سے وابستہ بعض سینئر اراکین کے دعویٰ کے مطابق اس میں رائج رسومات قدیم مصر کے بعض ادیان و رسومات سے ماخوذ ہیں لیکن حالیہ تحقیقات سے اس بات کی نفی ہوتی ہے کیونکہ ان میں دنیا کے متعدد ادیان و مذاہب سے مشابہت رکھنے والی بہت ساری رسومات شامل ہیں۔

اہداف:
سطحی نگاہ سے دیکھا جائے تو فری میسن کسی واضح ہدف کے بغیر فقط اخوت و برادری پر مبنی جبری مزدوری کرنے والے ان مزدوروں پر مشتمل ایک انجمن تھی جو یورپ میں کلیسا کے خدمت گزاران مزدوروں کی رقابت میں بنائی گئی تھی جو جبری مشقت سے مبرا تھے، ایک ایسی انجمن جس کاہدف پوری دنیا میں برادرانہ تعلقات کے فروغ اور ایک دوسرے کی مدد کرنا ہے، لیکن دقیق مطالعہ اسکے برعکس نتایج دیتا ہے۔ فری میسن کی ماضی کی حقیقت جو بھی ہو، لیکن ایک ناقابل تردید حقیقت یہ ہے کہ یہ تنظیم آج دنیا بھر کے ان صہیونی پالیسی سازوں کی ایک آلہ کار بنی ہوئی ہے جو دنیا میں اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے نیو ورلڈ آرڈر نامی نظریات دیکر دنیا اور اہل دنیا پر حاکم ایک واحد قوت کے حصول کیلئے سرگرم عمل ہیں، اس جدید عالمی تمدّن یا عالمی حکومت کے مقدمات میں سے ایک مقدمہ ’’ واحد عالمی دین یا دنیا کے تمام ادیان پر مشتمل ایک انجمن‘‘ کا نظریہ ہے۔
صیہونی پالیسی سازوں کے ہاتھوں بنایا گیا واحد عالمی دین کا یہ نظریہ بظاہر تمام ادیان کی تباہی یا سب انسانوں کو کسی ایک دین کی پیروی پر مجبور نہیں کرتا لیکن درپردہ تمام انسانوں اور انکے تفکرات پر حاکم ایسی فکر کو پیش کرتا ہے جو انفرادی سطح پر مختلف مذھبی نظریات رکھنے ساتھ ساتھ اجتماعی سطح پر کسی اختلاف میں پڑے بغیر ایک معیّنہ ہدف کی جانب حرکت کا باعث بنے اور نہ فقط دیندار بلکہ ملحد افراد بھی اس نظام فکری کے تحت اپنی زندگی گزار سکیں۔ واحد عالمی نظام یا دین کا نظریہ، مختلف ماورائے طبیعت نظریات کو قبول یا انکار کئے بغیر انکے مقابلہ میں ’’ مقدس روح‘‘ کی ایک ایسی اصطلاح سے استفادہ کرتا ہے جو اس پوری ہستی اور اسکے تمام موجودات سمیت فرد فرد پر حاکم ہے اور دنیا کی کوئی چیز اس سے خالی نہیں ہے۔ یہ وہ نظریہ ہے کہ جو بظاہر دنیا کے کسی دین، مذھب اور عقیدہ کے مقابل قرار پائے بغیر دنیا کے مختلف خطوں میں موجود مختلف افکار کے حامی علاقوں میں ایک مشترکہ اور سب کیلئے قابل قبول فکر کو پیش کرتا ہے۔