بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

مَا نَنسَخۡ مِنۡ ءَايَةٍ أَوۡ نُنسِهَا نَأۡتِ بِخَيۡرࣲ مِّنۡهَآ أَوۡ مِثۡلِهَا. (سورہ بقرہ، آیت 106)

ہم کسی آیت کو منسوخ کر دیتے ہیں یا اسے بھلا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا ویسی ہی اور آیت نازل کرتے ہیں۔

اَلسَّلامُ‌عَلَیكَ یا داعِیَ اللّهِ وَ رَبّانِیَّ آیاتِهِ اَلسَّلامُ عَلَیكَ یا بابَ اللّهِ وَ دَیّانَ دینِهِ اَلسَّلامُ عَلَیكَ یا خَلیفَةَ اللّهِ و ناصِرَ حَقِّهِ اَلسَّلامُ عَلیكَ یا حُجَّةَ ا‌للّهِ وَ دَلیلَ اِرادَتِه اَلسَّلامُ عَلَیكَ اَیُّهَا المُقَدَّمُ المَأمول اَلسَّلامُ عَلَیكَ بِجَوامِعِ السَّلام. اَلسَّلامُ‌عَلَیكَ یا مَولایَ صاحِبَ الزَّمان.

میں سب سے پہلے، اپنے مولا (امام زمانہؑ) کو انقلاب (اسلامی) کے عظیم رہبر، حکیمِ (امت، آیت اللہ)  خامنہ ای کی دل سوز شہادت پر تعزیت پیش کرتا ہوں اور اُن کی ذاتِ مقدس سے؛ ایران کی عظیم قوم بلکہ دنیا کے تمام مسلمانوں کے لیے، انقلابِ (اسلامی) اور اسلام کے تمام خادمین کے لیے، جاں نثاروں کے لیے، نہضتِ اسلامی کے شہداء بالخصوص حالیہ جنگ کے شہداء اور ان کے لواحقین کے لیے اور خود بندۂ حقیر کے لیے، دعائے خیر کی درخواست کرتا ہوں۔

میری گفتگو کے دوسرے حصے میں،  ایران کی عظیم قوم میری مخاطب ہے۔ سب سے پہلے میں مجلس محترم خبرگان کے انتخاب کے حوالے سے اپنی وضعیت اور موقف کو مختصراً بیان کرنا چاہوں گا۔ یہ آپ کا خادم سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای بھی آپ کی طرح، اسلامی جمہوریہ (ایران) کے ٹیلی ویژن کے ذریعے مجلس محترم خبرگان کے نتیجے سے مطلع ہوا۔ (درحقیقت) میرے لیے ایسی جگہ پر بیٹھنا سخت ہے جو دو عظیم پیشواؤں، (امام) خمینیؒ کبیر اور (امام) خامنہ ایؒ شہید کے بیٹھنے کی جگہ رہی ہو۔

(ولی فقیہ) کے مقام پر بیٹھنے کا سابقہ ایسی شخصیت کو حاصل ہے جو اللہ کی راہ میں 60 سال سے زیادہ مبارزہ کرنے اور ہر قسم کی لذتوں اور آسائشوں سے دوری کے بعد، نہ صرف موجودہ دور بلکہ اس ملک کے حکمرانوں کی پوری تاریخ میں، ایک تابندہ گوہر اور ممتاز چہرہ بن گئی۔ اُن کی زندگی اور اس دنیا سے جانے کا انداز؛ حق پر باقی رہنے کی وجہ سے، عزت و عظمت سے جڑا ہوا تھا۔

مجھے یہ سعادت حاصل ہوئی ہے کہ میں، (امام خامنہ ایؒ کی) شہادت کے بعد اُن کے پیکر کی زیارت کر سکوں۔ جو کچھ میں نے دیکھا، (واقعاً) وہ استقامت کا پہاڑ تھے اور میں نے سنا ہے کہ اُن کے صحیح و سالم ہاتھ کا مکا بنا ہوا تھا۔

اُن (شہید امام خامنہ ایؒ) کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں جاننے والے افراد ایک طویل عرصے تک آپ کی شخصیت سے پردہ اٹھاتے رہیں گے۔ یہاں پر میں صرف اسی مختصر بیان پر اکتفا کرتا ہوں اور تفصیلات کو کسی اور مناسب موقع پر بیان کروں گا۔ اسی وجہ سے، اس طرح کی شخصیت کے بعد رہبری (ولی فقیہ) کے مقام پر بیٹھنا ایک دشوار کام ہے۔ اس خلا کو پُر کرنا صرف اللہ تعالیٰ کی مدد اور آپ عوام کے تعاون سے ہی ممکن ہے۔

اس بات کو جاری رکھتے ہوئے میں ایک نکتے پر تاکید، ضروری سمجھتا ہوں جس کا میری اصل بات سے براہ راست تعلق ہے۔ وہ یہ ہے کہ شہید رہبرِ (معظم) اور اُن کے بزرگ پیشوا (امام خمینیؒ) کا یہ ہنر تھا کہ وہ تمام میدانوں میں عوام کو مسلسل بصیرت اور آگاہی دیتے اور عملی طور پر بھی اُن کی طاقت پر بھروسہ کرتے تھے۔ انہوں (شہید رہبر معظمؒ اور امام خمینیؒ) نے اس طرح جمہور اور جمہوریت کے حقیقی مفہوم کو عملی جامہ پہنایا اور اپنے دل و جان سے اس پر ایمان بھی رکھتے تھے۔

اِس نکتے (عوام کی طاقت) کا واضح اثر اِن چند دنوں میں دیکھا گیا کہ جب ملک بغیر رہبر اور بغیر ولی فقیہ کے تھا۔ عظیم ایرانی قوم کی بصیرت و ذہانت، حالیہ واقعے میں عوام کی استقامت، بہادری اور میدان میں (مسلسل) حضور، نے اپنوں کو داد دینے اور دشمن کو حیرت زدہ ہونے پر مجبور کر دیا۔ یہ آپ عوام ہی تھے جو ملک کی رہبری اور اس کے اقتدار کے ضامن بنے۔

اس تحریر کے آغاز میں جس آیت کا میں نے ذکر کیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ آیات الٰہی میں سے کوئی بھی ایسی نہیں جس کی مدت ختم ہو جائے یا اسے فراموش کر دیا جائے مگر یہ کہ اللہ کی طرف سے، اس سے بہتر یا اس جیسی آیت اس کی جگہ لے لے(سورہ بقرہ، آیت 106)۔ یہاں اس آیت کو ذکر کرنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ میں (مجتبیٰ خامنہ ای) شہید رہبر معظمؒ کے ہم مرتبہ ہوں یا یہ کہ اُن سے برتر ہوں بلکہ اس آیت کے ذکر سے آپ عظیم قوم کے اہم اور بھرپور کردار کی طرف توجہ دلانا ہے۔

اگر وہ (شہید امام خامنہ ایؒ جیسی) عظیم نعمت ہم سے لے لی گئی ہے تو اس کے بدلے ایک بار پھر اس نظامِ (ولایت) کو ایرانی قوم کی عمارانہ موجودگی عطا ہوئی ہے۔ یہ ذہن نشین رکھیں کہ اگر میدان میں آپ (عوام) کی طاقت کا اظہار نہ ہو تو، کوئی رہبر اور کوئی ادارہ جس کا اصل کام عوام کی خدمت ہے، وہ اپنی مطلوبہ کارکردگی تک نہیں پہنچ سکتا۔

اس بات (یعنی ملکی کارکردگی) کو بہتر طور پر عملی جامہ پہنانے کے لیے، سب سے پہلے ہمیں وحدہٗ لا شریک خدا کی یاد، اس کی ذات پر توکل اور معصومینؑ کے انوارِ طیبہ سے توسل کرنا چاہیے کیونکہ یہ ایک ایسا عظیم نسخہ ہے جو ہر قسم کی مشکل اور دشمن پر حتمی فتح کا ضامن ہے۔ یہ وہ عظیم برتری ہے جو صرف آپ کو حاصل ہے اور آپ کے دشمن اس سے محروم ہیں۔

دوسرا یہ کہ قوم کے مختلف افراد اور سماجی طبقات کے درمیان اتحاد جو عموماً مشکل حالات میں خاص طریقے سے نمایاں ہوتا ہے، اس (اتحاد) کو باقی رہنا چاہیے۔ یہ کام اختلافی ابحاث کو نظر انداز کرنے سے حاصل ہوگا۔

تیسرا نکتہ یہ ہے کہ (آپ عوام کی) میدان میں مؤثر موجودگی برقرار رہنی چاہیے جیسے اس جنگ کے شب و روز میں آپ نے ثابت کیا اور اسی طرح مختلف سماجی، سیاسی، تربیتی، ثقافتی اور حتیٰ کہ سیکورٹی میدانوں میں بھی (آپ نے) مؤثر کردار ادا کیا۔ اہم بات یہ ہے کہ موثر کردار اور معاشرتی اتحاد میں خلل کے بغیر، اس (نکتے) کو اچھی طرح درک کیا جائے اور جہاں تک ممکن ہو اس پر عمل بھی کیا جائے۔

رہبر (ولی فقیہ) اور بعض دوسرے مسئولین کے فرائض میں سے ایک معاشرے کے (مختلف) افراد یا طبقات کو، اُن کی ذمہ داریوں سے آگاہ کرنا ہے۔ اسی لیے میں 2026 کی روزِ قدس کی ریلی میں شرکت پر  تاکید کرتا ہوں کہ اس میں سب کی دشمن شکن عنصر پر توجہ ہونی چاہیے۔

چوتھے نمبر پر آپ ایک دوسرے کی مدد سے دریغ نہ کریں۔ الحمداللہ، اکثر ایرانیوں کی ہمیشہ سے یہی عادت رہی ہے اور امید ہے کہ ان خاص دنوں میں کہ جب طبعی طور پر بعض افراد پر یہ ایام دوسروں کی نسبت سخت گزر رہے ہیں، یہ کام زیادہ نمایاں ہونا چاہیے۔ اسی موقع پر میں (سرکاری و غیر سرکاری) خدمات انجام دینے والے اداروں سے چاہتا ہوں کہ وہ بھی اس سلسلے میں ملت کے عظیم افراد اور عوامی رفاہی ڈھانچوں کی، کسی بھی قسم کی مدد اور اعانت سے دریغ نہ کریں۔

اگر (ایک دوسرے سے تعاون) کا خیال رکھا گیا تو یہ کام آپ عظیم قوم کے لیے عظمت اور شان و شوکت تک پہنچنے کا پیش خیمہ بنے گا۔ اس کی قریب ترین مثال انشاءاللہ موجودہ جنگ میں دشمن پر فتح ہوگی۔

اپنے بیان کے تیسرے حصے میں، میں اپنے دلیر مجاہدوں کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ایسے حالات میں کہ جب مظلومانہ طور پر ہماری عظیم قوم اور ملک پر استعماری محاذ کے سربراہوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تو اِن بہادروں نے اپنی کاری ضربوں سے دشمن کا راستہ روک دیا اور دشمن کو اس عظیم ملک پر تسلط اور ممکنہ طور پر اس کو تقسیم کرنے کی خام خیالی سے نکال دیا۔

عزیز مجاہد بھائیو! عوامی اکثریتی رائے کو مد نظر رکھتے ہوئے مؤثر اور دشمن کو پشیمان کرنے والا دفاع جاری رہے۔ نیز یقیناً آبنائے ہرمز کو بند کرنے والی حکمت عملی جاری رہنی چاہیے۔ دوسرے محاذ کھولنے کی پلاننگ، جس میں دشمن کم تجربہ رکھتا ہے اور جہاں اسے شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا، اس پر تحقیقات کی گئی ہیں اور جنگی صورتحال کے جاری رہنے اور مصلحت کی بنا پر اس سے بھی استفادہ کیا جائے گا۔

اسی طرح مقاومتی محاذ کے مجاہدین کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہم مقاومتی محاذ کے ممالک کو اپنا بہترین دوست سمجھتے ہیں۔ مقاومت اور مقاومتی محاذ کا معاملہ، انقلاب اسلامی کی اقدار کا ایک ناقابلِ تقسیم حصہ ہے۔ بلا شبہ اس محاذ کے اجزاء کا ایک دوسرے کے ساتھ تعاون، صیہونی فتنے سے نجات کی راہ کو مختصر کرے گا۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ دلیر اور باایمان یمنیوں نے غزہ کی مظلوم عوام کے دفاع سے ہاتھ نہیں اٹھایا۔ عظیم اور جانثار حزب اللہ، تمام رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ (ایران) کی مدد پہنچی اور عراق کی مقاومت نے بھی بہادری سے یہی رستہ اختیار کیا ہے۔

چوتھے حصے میں میرا خطاب ان لوگوں سے ہے جو ان چند دنوں میں کسی نہ کسی طرح متاثر ہوئے ہیں۔ خواہ وہ جنہوں نے کسی عزیز یا عزیزوں کی شہادت کا غم جھیلا ہو یا وہ جو زخمی ہوئے ہوں اور خواہ وہ افراد جن کے گھر بار یا کاروبار کو نقصان پہنچا ہو۔ اس حصے میں اولاً میں شہدائے والامقام کے لواحقین سے اپنی گہری ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔ یہ اس مشترکہ تجربے کی بنیاد پر ہے جو میں ان بزرگوں کے ساتھ رکھتا ہوں؛ میرے والد کے علاوہ، جن کی جدائی کا غم ایک عمومی مسئلہ بن گیا، میں نے اپنی عزیز اور وفادار زوجہ کو جس سے مجھے امیدیں وابستہ تھیں اور اپنی فداکار بہن کو جس نے اپنے آپ کو والدین کی خدمت کے لیے وقف کر دیا تھا اور آخر کار اسے اپنا اجر ملا، نیز اس کے چھوٹے بچے کو اور اپنی دوسری بہن کے شوہر کو جو ایک عالم اور شریف انسان تھا، شہداء کے قافلے کے سپرد کیا ہے لیکن جو چیز مصائب پر صبر کو ممکن اور آسان بناتی ہے، وہ صبر کرنے والوں کے لیے اللہ کی حتمی اور قطعی یعنی اجر کے وعدہ کی بشارت ہے۔ لہٰذا صبر کرنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کے فضل اور مدد پر امید اور بھروسہ رکھنا چاہیے۔

ثانیاً میں سب کو یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم آپ کے شہداء کے خون کا بدلہ لینے سے ہرگز صرفِ نظر نہیں کریں گے۔ ہمارے نزدیک انتقام، صرف انقلاب کے عظیم الشان رہبر کی شہادت سے متعلق نہیں ہے بلکہ قوم کا ہر وہ فرد، جو دشمن کے ہاتھوں شہید ہواہے، خود انتقام ایک مستقل موضوع ہے۔ البتہ اس انتقام کا ایک محدود حصہ ابھی تک عملی شکل اختیار کر چکا ہے لیکن جب تک اس کی تکمیل نہیں ہو جاتی، یہ مسئلہ باقی مسائل پر فوقیت رکھے گا اور خصوصاً ہمارے بچوں اور ننھے بچوں کے خون کے بارے میں ہم زیادہ حساسیت دکھائیں گے۔ لہٰذا دشمن نے مدرسہ شجرہ طیبہ میناب اور اسی طرح کے بعض دیگر واقعات میں جان بوجھ کر جو قتل عام کیا ہے اس کی اہمیت اس (انتقام والے) معاملے میں خاص حیثیت کی حامل ہے۔

ثالثاً ان حملات میں زخمیوں کو حتما مناسب علاج معالجے کی خدمات مفت حاصل ہونی چاہئیں اور کچھ دیگر مراعات بھی دی جائیں۔

رابعاً جہاں تک موجودہ وسائل اجازت دیں، عمارتوں اور ذاتی املاک کو پہنچنے والے مالی نقصانات کے ازالے کے لیے مناسب، معین اور قابل عمل اقدامات کیے جائیں۔ آخری دو نکات محترم (مسئولین) ذمہ داروں کے لیے ایک لازمی الاجرا ذمہ داری کی حیثیت رکھتے ہیں جسے انہیں پورا کرنا ہوگا اور مجھے اس کی رپورٹ دینی ہوگی۔

ایک نکتہ جسے یاد دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہر صورت میں ہم دشمن سے تاوان لیں گے اور اگر وہ انکار کرے گا تو جتنا ہم مناسب سمجھیں گے اس کے اموال میں سے لے لیں گے اور اگر وہ بھی ممکن نہ ہوا تو اتنی ہی مقدار میں اس کے اموال کو تباہ و برباد کر دیں گے۔

کلام کا پانچواں حصہ، ہمارے خطے کے بعض ممالک کے سربراہان مملکت اور مؤثر شخصیات سے خطاب ہے۔ ہماری 15 ممالک کے ساتھ زمینی یا دریائی سرحدیں ہیں اور ہم ہمیشہ ان سب کے ساتھ گرمجوشی اور تعمیری رابطے کے خواہاں رہے ہیں اور آگے بھی رہیں گے لیکن (امریکی) دشمن نے برسوں پہلے سے، ان ممالک میں سے بعض ممالک میں آہستہ آہستہ فوجی چھاؤنیاں اور اقتصادی اڈے قائم کیے تاکہ خطے پر اپنا تسلط یقینی بنا سکے۔ حالیہ حملے میں بعض (مسلم ممالک سے) فوجی اڈوں کا استعمال کیا گیا، جس پر ہم نے طبعی طور پر جیسا کہ ہم نے واضح وارننگ دی ہوئی تھی اور ان (اسلامی) ممالک پر کوئی حملہ کیے بغیر، صرف انہی (دشمنوں کے) اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ آئندہ بھی ہم یہ کام جاری رکھیں گے اگرچہ ہم، اب بھی اپنے اور ان ہمسائے ممالک کے درمیان دوستانہ روابط کے قائل ہیں۔ ان (اسلامی) ممالک کو ہمارے ملک عزیز (ایران) پر حملہ آور ہونے والوں اور ہماری قوم کے افراد کے قاتلوں کے ساتھ اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔ میں سفارش کرتا ہوں کہ وہ جلد از جلد ان اڈوں کو بند کر دیں کیونکہ اب تک وہ (اسلامی ممالک) سمجھ گئے ہوں گے کہ امریکہ کی طرف سے سیکورٹی دینے کا دعویٰ محض جھوٹ پر مبنی تھا۔

یہ کام ان (سربراہان) کو اپنی قوموں کے ساتھ زیادہ جوڑنے میں مدد دے گا جو کہ (وہ قومیں) عام طور پر کفر کے محاذ کے ساتھ دینے اور اس (دشمن) کے توہین آمیز رویے سے ناخوش ہیں۔ اس کام سے ان کی دولت اور طاقت میں اضافہ ہو گا۔ میں دوبارہ کہنا چاہتا ہوں کہ اسلامی جمہوریہ کا نظام، خطے میں تسلط اور استعمار کو قائم کیے بغیر، تمام پڑوسیوں کے ساتھ اتحاد اور گرمجوشی اور خلوص پر مبنی باہمی تعلقات کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

چھٹے حصے میں میرا خطاب ہمارے شہید رہبر (معظمؒ) سے ہے۔ اے رہبر! آپ نے اپنے جانے سے سب کے دلوں پر ایک شدید غم طاری کردیا ہے۔ آپ ہمیشہ اس انجام کے مشتاق تھے کہ آخر کار اللہ تعالیٰ نے ماہ رمضان المبارک کی دسویں تاریخ کی صبح قرآن کریم کی تلاوت کے دوران آپ کو عطا فرما دیا۔ آپ نے بہت سی مظلومیتوں کو پوری طاقت اور بردباری سے برداشت کیا اور کبھی پیشانی پر خم نہیں آیا۔ بہت سارے افراد نے آپ کی اصل قدر کو نہیں پہچانا اور شاید اب کافی عرصہ  لگے گا جب مختلف پردے اور رکاوٹیں ہٹیں گی اور اس کے کچھ گوشے عیاں ہوں گے۔

ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کو انوار طیبہ، صدیقین، شہداء اور اولیاء کے جوار میں حاصل ہونے والے مقام اور قرب کی بنا پر، اس قوم اور مقاومتی محاذ کی تمام قوموں کی ترقی کے بارے میں فکر مند رہیں گے اور اس کے لیے سفارش کرتے رہیں گے، جیسا کہ آپ اپنی دنیوی زندگی میں تھے۔ ہم آپ سے عہد کرتے ہیں کہ اس پرچم کی بلندی کے لیے، جو حق کے محاذ کا اصل پرچم ہے، اور آپ کے مقدس مقاصد کے حصول کے لیے پوری جان و تن سے کوشش کریں گے۔

ساتویں حصے میں ان تمام بزرگ ہستیوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میری حمایت کی ہے، جن میں مراجع عظام تقلید اور مختلف ثقافتی، سیاسی، سماجی شخصیات اور عوام کے وہ افراد شامل ہیں جو نظام کے ساتھ دوبارہ بیعت کے اظہار کے لیے پر شکوہ اجتماعات میں حاضر ہوئے، نیز تینوں بڑے اداروں کے ذمہ داران اور رہبری کی عارضی کونسل کا ان کے اچھے انتظامات اور اقدامات پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔

امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خاص عنایات ان بابرکت گھڑیوں اور دنوں میں تمام ملت ایران بلکہ تمام مسلمین اور عالم کے مستضعفین کا شامل حال ہوں۔

اور آخر میں اپنے مولا امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے درخواست کرتا ہوں کہ شب قدر اور ماہ رمضان المبارک کے بقیہ ایام میں اللہ تعالیٰ کے حضور ہماری قوم کے لیے دشمن پر قطعی غلبہ اور ساتھ ہی عزت، وسعت اور عافیت، اور ان کے رفقاء کے لیے اخروی مقامات اور عافیت کی دعا فرمائیں۔

والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ و تحیاتہ

سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای

12 مارچ 2026