سب سے پہلے اگر ہم اپنی نیت کو خالص کر لیں، دوسرا یہ کہ ہم صرف خدا پر بھروسہ رکھیں اور جب بھی ہمارا کوئی کام رُکے تو ہم خدا کے اولیا سے توسل کریں، تو ہمارا کام انجام کو پہنچ جائے گا۔ جب شہید رہبرِ معظمؒ کے لیے حالات اور زندگی کے مسائل بہت سخت ہو جاتے تھے اور ہر طرف سے دباؤ انہیں گھیر لیتا تھا تو وہ آدھی رات کو اٹھ کر حضرت فاطمہ معصومہؑ کی زیارت اور مسجد مقدس جمکران جاتے تھے اور صبح واپس اپنے معمول کے کاموں میں مشغول ہو جاتے تھے۔۔۔ یعنی وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ دنیا کی تمام مشکلوں میں، جب حالات سخت ہو جائیں تو انسان کو کس کے در پر جانا چاہیے۔
آیت اللہ محمد تقی مصباح یزدیؒ
16 اپریل 2015
