اس میں شک نہیں کہ داخلی سطح پر اختلاف اور تفرقہ بازی کو فروغ دینا دشمن کا شیوہ ہے اور اسی راستے سے فائدہ اٹھا تا ہے اور اپنے آلہ کاروں کے ذریعے پہلے مرحلے میں داخلی سطح پر اختلاف کو ہوا دیتے ہوئے ملت کو مختلف گروہوں میں تقسیم کرتا ہے اور داخلی سطح پر اختلاف ایجاد کرنے کے بعد اگلے مرحلے میں پوری قوت اور توانائی کے ساتھ ملک کو تباہ کرنے کیلئے باضابطہ طور پر منصوبہ بناتا ہے، یہ دشمن کا پرانا حربہ ہے جس کی مثالیں ہمیں تاریخ میں بھی ملتی ہیں، جیسے جنگ صفین میں امیر المومنین علیہ السلام کے لشکر میں شامل اشعث بن قیس جیسے منافق شخص کی ایک تقریر سے جنگ کا نقشہ بدل جاتا ہے اور مسئلہ حکمیت تک جا پہنچتا ہے، چنانچہ اسی تناظر میں دیکھا جائے تو ملک (ایران) میں ہونے والے حالیہ فسادات اور شورش کے تانے بانے 2009 کے فتنے سے ملتے ہیںأ 2009 کے بعد بعض سیاسی پارٹیوں کی جانب سے داخلی سطح پر دشمن کو اختلاف کا عندیہ مل چکا تھا اور اسی سے دشمن نے فائدہ اٹھاتے ہوئے داخلی سطح پر فسادات کو ہوا دینے کی کوشش کی جسکے نتیجے میں حالیہ فسادات کی مثال ملک میں دیکھنے کوملی۔

دشمن کیلئے فسادات کو ہوا دینے کا موقع کب اور کہاں سے ملا؟ اشعث بن قیس جیسے منافق کی تقریر نے نیزوں پر قرآن کو اٹھا نے سے زیادہ اثر کس طرح دکھایا؟ رہبر انقلاب اسلامی کی جانب سے ایٹمی مذاکرات کے بے سود ہونے پر مبنی تاکید کے باوجود برسر اقتدار حکومت کے اختلاف پر مشتمل سیاسی موقف نے دشمن کو کس طرح کا سگنل بھیجا؟

چنانچہ انہی تمام سوالات کے تفصیلی جوابات سے آگاہی کیلئے ولی امر مسلمین سید علی خامنہ ای اور حجت الاسلام والمسلمین پناہیان کے بیانات پر مبنی اس ویڈیو کوضرور دیکھئے۔

#ویڈیو #ولی_امر_مسلمین #اشعث #معاویہ #فسادات #2009 #فتنے #اخلتلافات #معاویہ #ایٹمی_مذاکرات #قاسم_سلیمانی #امریکہ #دہشتگر_گرد