الْجَنَّةُ تَحْتَ ظلَالِ السیوف
جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔

اسلامِ محمدی میں جہاد ایک خوبصورت دستور ہے جہاد یعنی ظالموں اور مستکبروں کے سامنے نہ فقط تسلیم خم نہیں ہونا بلکہ بنی نوع انسان کو اُن کے شر سے نجات دلانے کے لیے قیام کرنا اور اُن سے جنگ کرنے کا نام جہاد ہے۔

شیطانی عَالَمی طاقتوں نے جہاد کے زندگی بخش تصور کو بدنما اور وحشت ناک بنانے کے لیے جہاد کے نام پر دین محمدیؐ کی حقیقی فہم سے کوسوں دور نافہم اور نادان کچھ گروہوں کو اپنے زرخرید نوکروں کے ذریعے ابھارا اور انہیں خود مسلمانوں کے خلاف اور حقیقی مقاومتی تحریکوں کے خلاف استعمال کرنا شروع کردیا آج کی دنیا میں جس کی جیتی جاگتی مثال طالبان، القاعدہ اور داعش جیسے اسلام و مسلمان دشمن گروہ ہیں، اگر مسلمانوں کے درمیان جہاد کے حقیقی تصور اور اس راستے میں شہادت کی فضیلت کو درست بیان کیا جائے تو مسلمان دوبارہ دنیا میں عزت پاسکتے ہیں۔

آئیں دیکھتے ہیں سفیر ولایت داعی وحدت و جہاد شہید علامہ عارف حسین الحسینی رضوان اللہ علیہ مسلمانوں کی زبوں حالی اور جہادی سے دوری کے موضوع پر کیا فرماتے ہیں۔

#ویڈیو #بین_الاقوامی_سطح #مسلمان #خوار #ذلیل #دست_و_گریبان #شہادت #جہاد #فسلطین #بے_غیرت_حکومتیں