دین اسلام کی عظیم اور ممتاز عبادات میں ایک عبادت حج کا فریضہ ہے۔ مسلمان حج کی اس عظیم عبادت کو بجا لانے کے لیے دنیا کے گوشے و کنار سے مکہ تشریف لاتے ہیں اور حج کے حکمت سے لبریز مناسک و اعمال بجا لاتے ہیں. حج کو اگر اس کی حقیقی روح کے ساتھ بجا لایا جائے تو اس کے ایک ایک عمل میں انسان کی مادی و روحانی زندگی کے لیے فوائد و ثمرات پائے جاتے ہیں. حج میں موجود تعلیمات میں سے ایک اور اہم تعلیم خواہشات نفس سے اجتناب کرنا ہے۔ اگر انسان اپنی نفسانی خواہشات کو لگام نہ دے تو وہ ایک وحشی درندہ اور پست ترین مخلوق بن جاتا ہے اور اگر ان نفسانی خواہشات کو قابو میں رکھے اور اس کی لگام کو کنٹرول میں رکھے تو اشرف المخلوقات کی منزل پر فائز ہو سکتا ہے۔ حج کے عظیم الشان انسان ساز مناسک میں خواہشات نفسانی پر قابو رکھنے کی تعلیم دینے کے لیے کچھ ایسی چیزیں بھی حرام کر دی گئی ہیں جو عام حالات میں حرام نہیں ہیں۔ تاکہ انسان ان چیزوں سے بھی پرہیز کرے جو اس کے اختیار میں ہیں کیونکہ ایک چیز جو انسان کے اختیار میں ہو اس سے پرہیز کرنا انسان کے لیے بہت ہی سخت ہوتا ہے۔ حج کے مناسک میں خواہشات نفسانی سے اجتناب اور پرہیز کی تعلیم دی گئی ہے اور انسان کو عملی زندگی گزارنے کے لیے ایک عملی نمونہ پیش کیا گیا ہے۔

اس بارے میں مزید جاننے کے لیے رھبر معظم کی اس گفتگو کا ضرور مشاہدہ کیجئے۔

#ویڈیو #حج #خواہشات_نفسانی #اجتناب_کی_مشق #استعمال #دسترس #بیت_المال #جواز #اختیار #بلا #نفسانی_خواہشات #نا_محرم #جنسی_مسائل #بری_جانور #شکار #حرام