اگر ایک انسان کسی دوسرے انسان کے وجود میں موجود کسی کمال یا اچھائی کی بنا پر اس کا عاشق ہو سکتا ہے تو اللہ تعالی کی ذات، جو تمام تر کمالات اور جمالات کا مجموعہ ہے اور اس کے کمالات اور جمالات کے لیے کسی انتہاء کا تصور ممکن نہیں، بطریقِ اَولی عشق کا سرچشمہ قرار پا سکتی ہے تاہم اللہ سے عشق و محبت، بغیر قید و شرط کے نہیں بلکہ اس کے لیے کچھ شرائط اور مقدمات درکار ہیں۔ اگر وہ شرائط اور مقدمات فراہم ہو جائیں تو اللہ سے عشق و محبت پیدا ہو سکتی ہے ورنہ نہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ شرائط کیا ہیں اور انہیں حاصل کرنے کا طریقہ کیا ہے؟

اس سوال کے جواب سے آگاہی کے لیے آیۃ اللہ تقی مصباح یزدیؒ رضوان اللہ تعالی علیہ کی اس ویڈیو کو ضرور ملاحظہ فرمائیں۔

#ویڈیو #مصباح_یزدی #اللہ #انسان #عشق #حاضر #محبت #جمالات #کمالات #کیفیت #اثر

کل ملاحظات: 1367