اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد تہران میں واقع بظاہر “امریکی سفارت خانے”، جبکہ در حقیقت “امریکی جاسوسی کے اڈے” پر قبضہ کرنا، اسلامی انقلاب کی تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے جسے بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینیؒ نے “انقلابِ دوم” کے نام سے یاد کیا ہے، چنانچہ امریکی جاسوسی اڈے پر قبضے کے دوران امریکہ کی جانب سے ایران اسلامی کے خلاف مذموم عزائم پر مشتمل دستاویزات کو امریکی سفارت کے عملے نے مخصوص آلات کے ذریعے ٹکڑے ٹکڑے کرکے انہیں مٹانے کی کوشش کی تاہم طلباء کی کوششوں کے نتیجے میں کاغذ کے ٹکڑوں کو یکجا کرکے کتابی شکل دے دی گئی جس کے بعد معلوم ہوا کہ سفارت کے نام پر امریکی جاسوسی اڈے میں ایران اور ایرانی عوام کے خلاف کس طرح کی گھناؤنی سازشیں انجام دی جاتی تھیں۔ چنانچہ اسی ضمن میں رہبر انقلاب اسلامی کی جانب سے ہمیشہ تاکید رہی ہے کہ ان دستاویزات کو باقاعدہ پڑھا جائے اور اس کو نصاب تعلیم کا حصہ بنایا جائے تاکہ آنے والی نسلوں کو ایران اور ایرانی عوام کے خلاف عداوت اور دشمنی پر مبنی امریکہ کی سازشوں کے بارے میں آگاہی حاصل ہو سکے۔

امریکی جاسوسی اڈے سے برآمد ہونے والی دستاویزات، کتنی جلدوں پر مشتمل ہیں؟ رہبر انقلاب کی نظر میں ان دستاویزات کو منظر عام پر آنے سے روکنے کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں؟ ان دستاویزات کو تعلیمی نصاب میں کیوں شامل کیا جانا چاہئے؟

ان سوالات کے جوابات جاننے کے لیے اور امریکی سازشوں پر مبنی ان دستاویزات کے حوالے سے مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے اس مختصر سی ڈاکومینٹری فلم؛ کو ضرور دیکھیں۔

#ویڈیو #دوسرا_انقلاب #سفارت #امریکی_سفارت #سفارت_خانہ #قبضہ # کہانی #کاغذ #امام_خمینی #معلومات #اہم_معلومات #تحریری_دستاویزات #یونیورسٹی #سٹوڈنٹ #طلباء #جاسوسی_کا_اڈہ #ایجنٹ #امریکہ #امریکی_ایجنٹ #پاؤڈر #مشین #محنت #جاسوسی #کتاب #سازش #نتیجہ #ورقہ #علی_خامنہ_ای #رجسٹر #فائل #4_نومبر #1979 #خیانت #بے_ایمان #مؤمن #تاریخی_دستاویز #مومن #جرات #زبردستی #دھونس #مقابلہ #استکبار #ملت #نسل #نسلیں #تاریخ #الیکشن #تاریخی_حافظہ #سکول #پابندی #نفوذ #بغاوت #نصابی_کتب #تعلیمی_ادارے

کل ملاحظات: 1941