تاریخ کے ہر دور میں جہاں ایک طرف دنیا پرست افراد نے مال اور دولت کی خاطر ہرجائز اور ناجائز طریقے کو بروئے کار لایا ہے اور اپنے لئے شاندار گھر اور محلات کی تعمیر کو افتخار کا باعث سمجھا ہے، وہیں دوسری جانب ایک طبقہ ایسا بھی پایا جاتا ہے جس نے اللہ تعالی کی رضایت کے حصول کیلئے دنیا کی رنگینیوں سے چشم پوشی کی ہے اور سعادت کی راہ میں اپنی جان کو قربان کرتے ہوئے شہادت کے عظیم درجے پر فائز ہونے کو باعث افتخار سمجھا ہے اور حیات طیبہ اور ابدی سعادت کا مستحق قرار پایا ہے چنانچہ یہیں سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ شہادت کا راستہ آج بھی کھلا ہوا ہے اور انسان اگر چاہے تو شہادت اور سعادت کے راستے پر چل کر حیات طیبہ کا مالک بن سکتا ہے اور اسکی چابی خود اسی کے پاس ہے، صرف اسے استعمال کرتے ہوئے سعادت کے تالے کو کھولنے کی ضرورت ہے۔ چنانچہ اس ویڈیو میں شہید محسن فخری زادہ کی زبانی اسی نکتے کی وضاحت پیش کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ شہید محسن فخری زادہ کا شمار اسلامی جمہوریہ ایران کے بڑے سائنسداں اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈروں میں ہوتا ہے، شہید محسن فخری زادہ ان پانچ ایرانی شخصیات میں سے ایک تھے جن کا نام امریکی میگزین فارن پالیسی کی شائع کردہ دنیا کے 500 طاقتور ترین افراد کی فہرست میں شامل تھا۔ شہیدمحسن فخری زادہ کو 27 نومبر2020 کو صیہونی آلہ کاروں کے ہاتھوں اس وقت شہید ہوئےجب آپ ڈیفنس ماڈرن ریسرچ آرگنائزیشن کے سربراہ تھے۔

#ویڈیو #شہید_محسن_فخری_زادہ #شہادت #حیات_طیبہ #ثروت #گھر #حقیقت #غم #شہید #چابی