اللہ کے نیک بندوں کے سامنے جب کبھی کوئی مشکل پیش آتی ہے اور تمام تر کوششوں کے باوجود انہیں کہیں اس کا حل نظر نہیں آتا ہے تو وہ اللہ تعالی سے مدد مانگتے ہیں اور بقول قرآن کریم “فاستعینوا بالصبر والصلاۃ ” نماز اور روزہ کے ذریعے اللہ تعالی سے مدد مانگتے ہیں؛ جسکے نتیجے میں انکی مشکل با آسانی حل ہوجاتی ہے اور اسکی ایک خوبصورت مثال، شہید شہریاریؒ کی زندگی میں ںظر آتی ہے جسے انکے شاگرد نے نقل کیا ہے اور شہید شہریاری کی زندگی سے متعلق کتاب میں اس داستان کو قلمبند کیا گیا ہے۔

واضح ہے کہ شہید مجید شہریاری، ماہر طبیعیات اور ایٹمی سائنسدان تھے، انہوں نے امیرکبیر یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سے الیکٹرانک انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی اور شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سے نیوکلیئر انجینئرنگ میں ماسٹر ڈگری اور امیرکبیر یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سے نیوکلیئر سائنس اور ٹیکنالوجی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ شہید مجید شہریاری، شہید بہشتی یونیورسٹی میں بطور پروفیسر خدمات انجام دے رہے تھے اور 29 نومبر 2010 کو شہادت کے درجے پر فائز ہوئے۔

شہید شہریاریؒ کی وہ کونسی مشکل تھی جس کے حل کیلئے انہوں نے اللہ تعالی کی بارگاہ سے مدد مانگی؟ اور اس مشکل کے حل کیلئے انہوں نے کس چیز کا سہارا لیا؟ اور اسکے بعد کتنی دیر میں انکی پیچیدہ علمی مشکل حل ہوگئی؟ اور انکی اس داستان سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟

انہی تمام باتوں کو جاننے کیلئے شہید شہریاریؒ کی داستان پر مشتمل ولی امر مسلمین سید علی خامنہ ای کی اس بہترین ویڈیو کو ضرور ملاحظہ کیجئے۔

#ویڈیو #ولی_امر_مسلمین #شہید_شہریاری #مسجد #نماز #معنویت #چوٹی #حل #آسان #یونیورسٹی #شہید_بہشتی