بسم اللہ الرحمن الرحیم

ہمارے خطے کی مسلمان اقوام بالخصوص اسلامی (جمہوریہ) ایران کی عظیم قوم کے لیے خداوند متعال کی بے نظیر نعمتوں میں سے ایک خلیج فارس کی نعمت ہے۔ یہ صرف ایک آبی خطہ نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر ایک ایسی نعمت ہے جس نے ہماری شناخت اور تہذیب کا ایک حصہ تشکیل دیا ہے۔

(خلیج فارس، مختلف) اقوام کے درمیان نقطۂ اتّصال ہونے کے علاوہ، اس نے عالمی معیشت کی ایک نہایت اہم اور منفرد گزرگاہ آبنائے ہرمز اور اس کے بعد دریائے عمان (جیسی نعمت) مہیا کی ہے۔

(خلیج فارس کے) اس اسٹریٹیجک سرمائے نے صدیوں سے متعدد شیطانی طاقتوں کو حرص و طمع پر برانگیختہ کیا ہے۔

ماضی میں خطے کے علاوہ دوسرے یورپی و امریکی طاقتوں کی بار بار جارحیت، بدامنی، ضرر اور خطے کے ممالک کے لیے مختلف خطرے، دراصل خلیج فارس کے باشندوں کے خلاف عالمی سامراجی طاقتوں کی سازشوں کا صرف ایک حصہ ہیں، جن کی تازہ ترین مثال حالیہ شیطانِ بزرگ یعنی امریکہ کے جارحانہ اقدامات تھے۔

ایرانی قوم نے کہ جس کے پاس خلیج فارس کا سب سے طویل ساحلی علاقہ ہے، اس نے خلیج فارس کی آزادی اور بیگانی و جارح (سامراجی) قوتوں کا مقابلہ کرنے میں سب سے زیادہ کوششیں کی ہیں۔

(ایران کی) آبنائے ہرمز سے پرتگالیوں کو خارج کرنے اور اسے ان سے آزاد کرانے کہ جس کی بنیاد پر 30 اپریل کو خلیج فارس کا قومی دن قرار دیا گیا، سے لے کر ہالینڈ کی استعماری طاقت کے خلاف جدوجہد اور برطانوی سامراج کے مقابلے میں مزاحمتی حماسوں تک… (کی تاریخ ہے)۔

تاہم اسلامی انقلاب، خلیج فارس کے خطے سے سامراجی طاقتوں کے نفوذ کو ختم کرنے کے لیے، ان تمام مزاحمتوں کا ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ آج خطے میں دو مہینوں سے دنیا کے متجاوز اور زبردستی کرنے والوں کی سب سے بڑی لشکر کشی، جارحیت اور امریکی منصوبے کی انتہائی شرمناک شکست کے بعد، خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں ایک نئے دور کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔

خلیج فارس کے خطے کی قومیں، جو طویل عرصے سے زورآوروں کے مقابلے میں اپنے حکمرانوں کی خاموشی اور ذلت آمیز رویے کی عادی ہو چکی تھیں، وہ پچھلے ساٹھ دنوں میں اغیار کے تسلط کے انکار، جنوبی ایران کے عوام اور نوجوانوں کی غیرت، بہادری اور عظیم ایران کی بحری افواج و سپاہ (پاسداران انقلاب) کی ہمت؛ ہوشیاری اور مجاہدانہ کارکردگی کے جلوے اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی ہیں۔

آج خداوند عالم کے فضل و کرم اور تیسری مسلط کردہ جنگ کے مظلوم شہداء بالخصوص اسلامی انقلاب کے عظیم اور دوراندیش عظیم رہبر اعلی اللہ مقامہ الشریف کے خون کی برکت سے نہ صرف عالمی رائے عامہ اور خطے کی اقوام بلکہ خود حکمرانوں اور ملکی سربراہوں پر بھی یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ خلیج فارس کے علاقوں میں امریکی اغیار کی موجودگی اور یہاں ان کا اپنے لیے بل اور گھونسلہ بنانا، خطے میں بدامنی اور عدم تحفظ کا سب سے بڑا سبب ہے۔

ان (امریکیوں) کے کھوکھلے فوجی اڈے خود اپنی حفاظت کی بھی صلاحیت نہیں رکھتے تو پھر کیسے خطے میں امریکہ نواز پٹھوؤں کو ان کی جانب سے تحفظ فراہم کرنے کی امید رکھی جا سکتی ہے؟!

اللہ کی مدد اور نصرت سے خلیج فارس کے خطے کا روشن مستقبل ایسا ہوگا جو امریکہ سے عاری اور اپنی اقوام کی ترقی و پیشرفت، سکون اور خوشحالی کے لیے ہوگا۔ خلیج فارس کے اس آبی خطے میں اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ ہمارا مشترکہ مستقبل ہے اور ان اغیار کے لیے؛ جو ہزاروں کلومیٹر دور سے حرص و طمع کے ساتھ یہاں شیطانی حرکتیں کرتے ہیں، ان کے لیے اس کے پانیوں کی گہرائی میں دفن ہونے کے علاوہ یہاں کوئی اور جگہ نہیں ہے۔

کامیابیوں کا یہ سلسلہ، جو خداوند عالم کے فضل و کرم، مقاومت کی تدبیروں، پالیسیوں اور ایک مضبوط ایران کی اسٹریٹیجی کے نتیجے میں حاصل ہوا ہے، ایک نئے علاقائی اور عالمی نظام کا پیش خیمہ بنے گا۔

آج ایرانی قوم کی یہ معجزانہ بیداری صرف صیہونیت اور خونخوار امریکہ کے خلاف جدوجہد میں جان نثار کرنے والے کروڑوں افراد تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ مبعوث شدہ، متحد اسلامی امت کی صفوں کی قیادت کر رہی ہے۔

نو کروڑ باغیرت اور شریف ایرانی ہم وطن، خواہ ملک کے اندر ہوں یا باہر، اپنی تمام شناختی، معنوی، انسانی، علمی، صنعتی صلاحیتوں اور بنیادی و جدید ٹیکنالوجیز جیسے نینو اور بائیو سے لے کر جوہری اور میزائل وغیرہ کو اپنی قومی متاع سمجھتے ہیں؛ اور جس طرح وہ آبی، زمینی اور فضائی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں، اسی طرح ان سب کی بھی پاسبانی کریں گے۔

اسلامی (جمہوریہ) ایران، آبنائے ہرمز کی عملی نظامت کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے، خلیج فارس کے خطے کو محفوظ بنائے گا اور اس آبی راستے سے ناجائز فائدہ اٹھانے والے دشمنوں کے راستے بند کر دے گا۔ آبنائے ہرمز کے نئے قانونی قواعد اور انتظامی ڈھانچے، خطے کی تمام اقوام کے فائدے کے لیے امن، آسائش اور ترقی کا سبب بنیں گے اور اس کے اقتصادی فوائد عوام کے دلوں کو شاد کریں گے، بِاِذنِ الله وَلَو کَرِهَ الکافرون

سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای

30 اپریل 2026