بسم الله الرّحمن الرّحیم

یا مقلب القلوب والابصار یا مدبّر اللیل و النهار یا محوِّل الحول و الاحوال، حَوِّل حالَنا الی احسن الحال.

(الحمد للہ) اس سال روحانی اور قدرتی بہار یعنی عید سعید فطر اور قدیمی مناسبت عید نوروز ایک ساتھ آ گئے ہیں۔ میں ان دونوں مذہبی اور ملی تہواروں پر قوم کے ہر فرد کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور خصوصاً عید سعید فطر پر دنیا کے تمام مسلمانوں کو مبارکباد کہتا ہوں۔ میں مجاہدینِ اسلام کی قابلِ تحسین فتوحات کی مناسبت سے سب کو تبریک کہنا ضروری سمجھتا ہوں۔ میں دوسری مسلط شدہ جنگ، دسمبر کی بغاوت، تیسری مسلط شدہ جنگ، امن کے شہید محافظوں، سرحدی محافظوں اور گمنام شہید سپاہیوں کے تمام خاندانوں اور لواحقین سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔

نئے شمسی سال 1405 کے آغاز کے موقع پر کچھ عرائض  ہیں کہ جو مندرجہ ذیل ہیں:

میں سب سے پہلے پچھلے سال کے بعض اہم واقعات کا مختصر جائزہ لوں گا۔ گذشتہ سال ہماری عظیم قوم نے تین عسکری اور امن و امان سے متعلق جنگوں کا تجربہ کیا۔ پہلی جنگ جون (2025) کی جنگ تھی جس میں صیہونی دشمن نے امریکی مدد سے، اور مذاکرات کے دوران بزدلی سے حملہ کر کے ملک کے بعض بہترین کمانڈروں اور مایہ ناز سائنس دانوں اور تقریباً 1000 ہموطنوں کوشہید کیا۔ (دشمن) یہ سمجھ رہا تھا کہ ایک یا دو دن بعد یہی عوام اسلامی نظام کا تختہ الٹ دیں گے لیکن آپ عوام کی ذہانت، مجاہدینِ اسلام کی بے مثال دلیری اور عظیم قربانیوں کی بدولت بہت جلد اس کی بے بسی اور بیچارگی ظاہر ہو گئی اور (مختلف) بہانوں سے جنگ بندی کر کے،  اس نے خود کو تباہ ہونے سے بچا لیا۔

دوسری جنگ جنوری میں (دہشت گرد عناصر کی) بغاوت تھی جس میں امریکہ اور صیہونی نظام نے یہ سمجھتے ہوئے کہ ایرانی قوم معاشی مشکلات سے جو کہ دشمن نے مسلط کی ہیں، دشمن کی چال میں آجائے گی، (دشمن نے) کرائے کے قاتلوں کے ذریعے بے شمار جرائم کا ارتکاب کیا اور پچھلی جنگ کے مقابلے میں ہمارے بہت سے عزیز ہم وطنوں کو شہید کر دیا اور (ہمیں) بہت زیادہ نقصان پہنچایا۔

تیسری جنگ وہ ہے جس کا ہم ابھی سامنا کر رہے ہیں۔ اس کے پہلے ہی دن ہم نے اس قوم کے مہربان پدر، عظیم رہبر(اعلی اللہ مقامہ الشریف) کو، کہ جب وہ بڑے شوق و اشتیاق سے شہداء کے ایک قافلے کے سرپرست کی حیثیت سے ایک آسمانی سفر میں اس مقام کی طرف چلے گئے جو ان کے لیے رحمت الٰہی کے سائے اور انوار طیبہ کے جوار میں صدیقین اور شہداء کے طور پر مقرر کیا گیا تھا، آنکھوں میں آنسو اور دکھی دل کے ساتھ رخصت کیا۔ نیز اسی دن سے آہستہ آہستہ اس جنگ کے دیگر شہداء میناب میں شجرہ طیبہ سکول کے بچے، دلیر اور مظلوم نونہالان وطن، دنا (بحری) جنگی جہاز کے دلیر ستارے، پاسداران انقلاب، فوج، فراجا، بسیج، گمنام سپاہی، دلیر سرحدی محافظ اور عوام کے دیگر افراد سے لے کر چھوٹے بچوں اور بڑوں تک جو نور کی ان صفوں میں سے ہمارے سامنے سے گزرے، سب کو بڑے افسوس کے ساتھ رخصت کیا۔ یہ جنگ اس وقت ہوئی جب دشمن عوامی حمایت سے اپنے حق میں نتیجہ نکلنے سے مایوس ہو گیا تھا اور اس وہم  کے تحت کہ اگر نظام (اسلامی) کے رہبر اور کچھ مؤثر فوجی افراد کو شہید کر دیا جائے تو آپ )یعنی (اس عظیم قوم میں خوف اور مایوسی پیدا ہو جائے گی، جس سے آپ میدان چھوڑ دیں گے اور اس طرح ایران پر تسلط اور پھر اس کی تقسیم کا خواب شرمندہ تعبیر ہو جائے گا۔ لیکن آپ نے اس مبارک مہینے میں روزے کو جہاد کے ساتھ ملا دیا اور پورے ملک میں ایک وسیع دفاعی لائن اور تمام چوراہوں، محلوں اور مساجد کومضبوط چٹانوں میں تبدیل کردیا اور اس طرح اسے ایسا دھچکا پہنچایا کہ وہ متضاد اور بے ہودہ باتیں کرنے لگ گیا جو اس کی بے وقوفی اور فہم کی کمزوری کی علامت ہے۔

آپ نے اس سے پہلے 12 جنوری 2026 کی  بغاوت کو کچل دیا تھا اور11  فروری 2026 کو ایک بار پھر عالمی استکبار سے اپنی نفرت اور اپنی ناامیدی کا اظہار کیا اور 13 مارچ 2026 کہ جو یوم القدس کا دن تھا، اسے یہ دھچکا دے کر سمجھا دیا کہ اس کا مقابلہ صرف میزائلوں، ڈرونز، اختیارات اور فوجی امور سے نہیں ہے۔ ایران کا خط مقدم اس  حقیر کے تصور سے کہیں بڑا ہے۔ میں یہاں ایک ایک عزیز کا، اس عظیم حماسے کے خلق کرنے پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اسی طرح بہادر، سچے اور عوامی صدر اور دیگر ذمہ داران کا بھی جو اس تقریب میں بغیر کسی تکلف اور پروٹوکول کے عوام میں موجود تھے؛  اس قسم کا کام اور اس کا اظہار بذاتِ خود بہت مفید ہو سکتا ہے جو قوم اور حکمرانوں کے درمیان ہم آہنگی کو مزید مضبوط کرتا ہے۔ فی الحال آپ ہم وطنوں کے درمیان مذہبی، فکری، ثقافتی اور سیاسی پس منظر کے تمام اختلافات کے باوجود جو حیرت انگیز وحدت پیدا ہوئی ہے، اس سے دشمن میں شکست کا احساس پیدا ہوگیا ہے۔ اسے بارگاہ الٰہی کی طرف سے ایک خاص نعمت سمجھنا چاہیے اور زبان سے، دل سے اور عمل سے اس پر شکر ادا کرنا چاہیے۔

ان ناقابلِ تغیر قواعد میں سے ایک یہ ہے کہ جب کسی نعمت کا شکر ادا کیا جاتا ہے تو شکر کی مقدار کے تناسب سے اس نعمت کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں یا اس میں اضافہ ہوتا ہے اور شکر گزار فرد پر مزید عنایات نازل ہوتی ہیں۔ عملی شکر ادا کرنے کے لیے جو فعال اقدام ہے، وہ یہ ہے کہ ہم اس عظیم نعمت کو صرف بارگاہ الٰہی کی رحمت سمجھیں اور جہاں تک ممکن ہو اس کا اچھا استعمال کریں۔ اس طرح یقیناً یہ وحدت مزید مضبوط اور فولادی ہو جائے گی اور آپ کے دشمن ذلیل تر ہو جائیں گے۔ یہ گزشتہ سال کے بعض اہم واقعات کا جائزہ تھا۔

اب جبکہ ہم (شمسی) سال 1405 کی دہلیز پر کھڑے ہیں، ہمیں کئی چیزوں کا سامنا ہے۔ ایک یہ کہ ہم اپنے عزیز مہمان ماہ مبارک رمضان 1447 (قمری) کو ہمیشہ کے لیے رخصت کر رہے ہیں۔ وہ مہینہ جس کی شبِ قدر میں آپ کے دلوں کا رخ عالم بالا کی طرف تھا اور اللہ رب العزت نے (آپ کو) نوازا اور حضرت (پیغمبرؐ) نے بھی اپنی نگاہ لطف و عنایت آپ پر ڈالی۔ آپ نے ہمارے مولا امام زمانہ (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) اور ان کے خدا سے فتح، ظفر، عافیت اور انواع و اقسام کی نعمتوں کی دعا کی اور یقیناً اس عنایت کے پیش نظر جو ہمیشہ اس نظام (اسلامی) اور اس ملت پر رہی ہے، انشاءاللہ یا تو وہی چیز پائیں گے جو آپ نے دل سے مانگی تھی یا اس سے بہتر۔ اس رخصتی کے ساتھ جس قدر انسان کی معرفت زیادہ ہو، جدائی اتنی ہی تلخ اور غم انگیز ہوتی ہے، ہم شوال المکرم کے سعید اور پر برکت چاند کا گرم جوشی سے استقبال کرتے ہیں اور خوف اور امید کے ساتھ بارگاہ الٰہی سے عیدی کے منتظر ہیں۔ مجھے امید ہے کہ اس عظیم قوم کی شب و روز کے ذمہ دارانہ حضور اور یوم القدس کی حماسہ آفرینی کے بعد، حق تعالیٰ ہمارے ساتھ اپنے کرم، علم، عفو اور لطف و کرم کے سوا جس کے ہم اور آپ عادی ہوچکے ہیں، کوئی اور سلوک نہ فرمائے۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ جلد ہی ہمارے مولا و آقا حضرت ولی اللہ الاعظم کے ظہورِ عام کے معاملے میں ایک مکمل کشادگی کی بشارت کے ساتھ، آپ (حضرت) کے قلبِ مبارک کو خوشیوں سے بھر دیں گے، جس کے طفیل اہل دنیا پر ہر قسم کی برکات نازل ہوں گی، اللہ کے احسان اور کرم سے۔

دوسری چیز ہمیں جس کا سامنا ہے وہ نوروز کا اہم قدیمی تہوار ہے۔ یہ تہوار جو فطرت کی طرف سے تازگی، شادابی اور زندگی کا پیغام لے کر آتا ہے اور اس کی اپنی اہمیت اور خوبیاں ہیں۔

ایک طرف (ایرانی) قوم کے لیے یہ پہلا سال ہے کہ ہمارے شہید رہبر اور اس جنگ کے عظیم شہداء ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں۔ خاص طور پر شہداء کے اہل خانہ اور لواحقین کے دلوں میں ان کے عزیزوں کا غم ہے۔ پھر بھی میں اپنی طرف سے اور ایک عام شہری کے طور پر جس کے ارد گرد کئی شہید ہیں، سمجھتا ہوں کہ ہم اگرچہ سوگ کے لباس میں ہیں اور ہمارے دل تمام شہداء کے لیے غم کا گھر ہیں لیکن ہمارے لیے باعث مسرت ہے کہ ان دنوں میں ہمارے نئے شادی شدہ جوڑے اپنے گھروں کو جائیں اور امید ہے کہ ہمارے شہید رہبر اور اس جنگ کے عظیم شہداء کی دعا ان عزیزوں کے ساتھ شاملِ حال ہو۔ میں درخواست کرتا ہوں کہ عام لوگ ان دنوں کی معمول کی ملاقاتوں کو شہداء کے اہل خانہ کا احترام اور ان کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے، انجام دیں۔ اور بہتر ہے کہ ہر محلے کے لوگ، اگر ضروری ہم آہنگی ہو جائے، تو سال نو کی ملاقاتوں کا آغاز اسی محلے کے شہداء کی تعظیم سے کریں۔ البتہ محترم حکومت کی طرف سے ہمارے عزیز رہبر کی شہادت کے غم کے لیے مقرر کردہ مدت کی اہمیت اپنی جگہ باقی ہے اور اس کا خیال رکھنا اور اس پر عمل کرنا اس نظام اور ملک کی عظمت کا ایک پہلو شمار کیا جاتا ہے۔

ان کلمات کے بعد کچھ مختصر عرائض یہ ہیں۔

اولاً، خاص طور پر ہمیں ان لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہیے جو ان دنوں چوراہوں، محلوں اور مساجد میں موجودگی کے ساتھ ساتھ دو چنداں کوششوں سے اپنے سماجی کردار کو مزید نمایاں کر رہے ہیں۔ ان میں بعض صنعتی کارخانے شامل ہیں، خواہ سرکاری ہوں یا پرائیویٹ اور بعض اصناف اور خاص طور پر وہ افراد جو صرف مختلف قسم کی مفید خدمات بغیر کسی پیشہ ورانہ ضرورت کے، مفت میں عوام کو فراہم کر رہے ہیں اور الحمدللہ اس قسم کے لوگ موجود ہیں۔

ثانیاً، دشمن کا ایک راستہ اس کی میڈیا کارروائیاں ہیں جو ان دنوں خاص طور پر عوام کے بعض افراد کے ذہن اور نفسیات کو نشانہ بنا کر قومی وحدت اور اس کے نتیجے میں قومی سلامتی میں خلل ڈالنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ ہمیں خبردار رہنا چاہیے کہ کہیں ہماری سہل انگاری اور بد نظمی کی وجہ سے یہ ان کا یہ منحوس ارادہ شرمندہ تعبیر نہ ہو جائے۔ اسی لیے میری اپنے ملک کے تمام میڈیا سے گزارش ہے کہ ان کی تمام ممکنہ فکری، سیاسی اور ثقافتی تفریقوں کے باوجود،  وہ کمزوریوں کو اجاگر کرنے سے سختی سے گریز کریں۔ بصورت دیگر دشمن کا اپنے مقصد تک پہنچنے کا امکان موجود ہے۔

ثالثاً، دشمن کی ایک دیرینہ امید کہ وہ معاشی اور انتظامی کمزوریوں سے فائدہ اٹھائے۔ ہمارے شہید رہبرؒ نے مختلف سالوں میں اقتصاد کے معاملے کو مرکزی محور اور سال کا شعار بنایا تھا۔ اس حقیر کے قاصر خیال کے مطابق بھی عوام کی معاش، زندگی اور فلاح و بہبود کے انفراسٹرکچر کی بہتری اور عام لوگوں کے لیے مالی ذرائع کی پیداوار، مرکزی نقطہ اور دشمن کی مسلط کردہ معاشی جنگ کے مقابلے میں ایک قسم کا دفاع بلکہ نمایاں پیش قدمی شمار ہوتی ہے۔ میری توفیقات میں سے ایک یہ ہے کہ میں نے اپنی عظیم قومی کے تمام طبقات کی باتیں سنی ہیں۔ مثلاً ایک عرصہ، میں ایک گمنام ٹیم کے ساتھ آپ کے ساتھ ٹیکسی میں، جس کا میں نے خود انتظام کیا تھا، تہران کی سڑکوں پر سفر کرتا تھا اور آپ کی باتیں سنتا تھا اور میں اس طرح کے سروے کو، سروے کرنے کے دیگر ذرائع سے زیادہ بہتر سمجھتا تھا۔ میرے خیالات اکثر آپ کی باتوں سے مطابقت رکھتے تھے جو عموماً معاشی اور انتظامی پہلوؤں سے متعلق مختلف تنقیدوں کی شکل میں بیان ہوتی تھیں۔ اس دوران میں نے آپ سے بہت کچھ سیکھا اور اب بھی مزید رہنمائیوں کا متلاشی ہوں۔ اسی طرح ان دنوں رمضان المبارک کی 19 تاریخ سے پہلے اور بعد میں بھی میں نے آپ میں سے مختلف افراد سے جو میدانوں میں موجود تھے، کچھ باتیں سیکھی ہیں۔ امید ہے کہ میں اس نعمت سے محروم نہ رہوں۔ اس سیکھنے، سننے اور دیگر مطالعات کے بعد ایک کوشش کی گئی ہے کہ ایک مؤثر اور ماہرانہ نسخۂ علاج مرتب کیا جائے جو جہاں تک ممکن ہو ہر پہلو سے جامع ہو۔ الحمدللہ یہ بات قابل قبول حد تک تحقق پا چکی ہے اور عنقریب انشاء اللہ اعلیٰ حکام کے ذریعے قوم کے تمام افراد کے تعاون سے عمل درآمد کے لیے تیار ہو جائے گی اور اس حصے کے آخر میں، عظیم شہید رہبر معظمؒ کی پیروی کرتے ہوئے، میں اس سال کا شعار “قومی اتحاد اور قومی سلامتی کے سائے میں مقاومتی معیشت” قرار دیتا ہوں۔

رابعاً و آخراً، میرے پہلے پیغام میں نظام (اسلامی) کا نقطۂ نظر اور پالیسی جو ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کے بارے میں ہے، وہ ایک سنجیدہ اور حقیقی معاملہ ہے۔ ہم ہمسایہ ہونے کے علاوہ دوسرے معنوی عناصر کو بھی جانتے ہیں جن میں سب سے پہلے دین مبین اسلام پر ایمان میں (ہمارا) اشتراک ہے، اس کے علاوہ ان میں سے بعض (ممالک) میں مقدس مقامات کا موجود ہونا، بعض میں ایرانیوں کی بطور باشندہ اور ملازم موجودگی، مشترکہ قومیت یا ہم زبانی یا بعض میں استکبار کے محاذ کے مقابلے میں مشترکہ اسٹریٹیجک مفادات ہیں، جن میں سے ہر ایک اپنی جگہ پر خوشگوار تعلقات کو مضبوط کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ اور ان میں سے بھی ہم اپنے مشرقی ہمسایوں کو اپنے بہت قریب سمجھتے ہیں۔ میں عرصہ دراز سے پاکستان کے بارے میں جانتا ہوں کہ یہ ایک ایسا ملک ہے جس میں ہمارے شہید رہبر کو خصوصی دلچسپی تھی، جس کی مثال ان کے بعض نماز)جمعہ( کے خطبات میں تباہ کن سیلاب کے موقع پر ظاہر ہوئی جس نے وہاں ہمارے ہم عقیدہ لوگوں کی جان کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ اور میں بھی مختلف وجوہات کی بنا پر ہمیشہ یہی سوچتا رہا ہوں اور یہاں اپنے بھائیوں یعنی افغانستان اور پاکستان سے کہنا چاہتا ہوں کہ انہیں خدا کی رضا اور مسلمانوں کے عصا (اتحاد) کو نہ توڑنے کے لیے ہی سہی، بہتر تعلقات قائم کرنے چاہئیں اور میں اپنی طرف سے ضروری اقدامات کے لیے تیار ہوں۔

اسی طرح میں یہاں یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ترکی اور عمان میں جو حملے ہوئے ہیں جہاں دونوں (ممالک) کے ساتھ ہمارے بہتر تعلقات ہیں، ان ممالک کے بعض علاقوں پر یہ حملے ہرگز اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج اور مقاومتی محاذ کے دوسرے دستوں کی جانب سے نہیں تھے۔ یہ ایک سازش ہے جو صیہونی دشمن (اسرائیل) منافقانہ ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران اور اس کے ہمسایوں کے درمیان نفرت پیدا کرنے کے لیے کر رہا ہے اور ممکن ہے کہ بعض دوسرے ممالک میں بھی ایسا ہو۔ اس سے متعلق باقی باتیں پہلے بیان کر چکا ہوں۔

مجھے امید ہے کہ ہمارے مولا امام زمانہؑ کی دعا اور خداوند متعال کی عنایت سے یہ سال ہماری ملت اور تمام ہمسایوں اور مسلم ممالک اور بالخصوص مقاومتی محاذ کے لیے ایک اچھا اور مادی و معنوی کامیابیوں اور ہر طرح کی برکتوں سے بھرپور سال ہو گا اور اسلام اور انسانیت کے دشمنوں کے لیے عذاب سے بھرپور سال ہوگا۔

وَنُرِيدُ أَنْ نَمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَنُرِيَ فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُمْ مَا كَانُوا يَحْذَرُونَ. صدق‌ الله العلی العظیم و صدق رسوله الکریم و نَحنُ عَلی ذلکَ مِنَ الشّاهدین.

والسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای

20 مارچ  2026