جب کوئی بھی میدان میں نہ ہوتا تو علیؑ ہوتے تھے؛ جب کوئی بھی میدان میں نہیں آتا تو آنحضرتؑ حاضر ہوتے تھے۔ جب خدا کی راہ میں لڑنے والوں اور مجاہدوں کے کندھوں پر سختیاں پہاڑوں کی طرح آن پڑتیں تو علیؑ کی استقامت ہی دوسروں کو حوصلہ دیتی تھی۔ علیؑ کی زندگی کا مفہوم یہ تھا کہ خدا کی عطا کردہ جسمانی اور روحانی طاقت اور ارادی قوت سمیت وہ تمام چیزیں جو آنحضرتؑ کے اختیار میں تھیں، سب کو کلمہ حق کی بلندی کے لیے بروئے کار لائیں اور حق کو زندہ کریں۔ علیؑ کی قوت ارادی، بازوؤں کی طاقت اور جہاد سے حق زندہ ہوا۔
ولی امر مسلمین سید علی حسینی خامنہ ای
30 جنوری 1991
