
بسم الله الرّحمن الرّحیم
السَّلامُ علیکَ یا ثاراللهِ وَ ابنَ ثاره وَ الوِترَ المَوتور. السَّلامُ علیکَ وَ علی جَدِّکَ وَ اَبیکَ وَ اُمِّکَ وَ اَخیکَ وَ المَعصومینَ مِن وُلدِکَ۔
سلام ہو آپ پر، اے خدا کا خون اور اُس کے خون کے فرزند! اور اے تنہا جس کے خون کا انتقام ابھی باقی ہے۔ سلام ہو آپ پر، اور آپ کے داداؑ، آپ کے والدؑ، آپ کی والدہؑ، آپ کے بھائیؑ اور آپ کی اولاد میں سے تمام معصوم ہستیوں پر بھی سلام ہو۔
سلام ہو اُس امام پر کہ جس کے قیام کی حیات بخش صدا نے بعثت نبویؐ کی عظیم گونج کو تاریخ کے دور افتادہ ترین گوشوں تک پہنچا دیا اور جس کے اثر سے انقلاب اسلامی ایران وجود میں آیا۔ ایسا انقلاب جس کی بنیاد آغاز ہی سے حسینی تھی اور جو (امام) حسینؑ کے نعرے اور سیرت پر استوار ہوا اور پروان چڑھا۔ ایران کے آقائے شہید (رہبرؒ) بھی اسی فکر و روش پر پروان چڑھے۔ وہ حسینی تھے، حسینی انداز میں سوچا، حسینی انداز میں آگے بڑھے، حسینی انداز میں جہاد کیا اور مزاحمت کی، حسینی انداز میں زندگی گزاری اور حسینی مکتب کی راہ میں اپنا خون پیش کرکے درجۂ شہادت پر فائز ہوئے۔ حسینیوں کے زمرے میں وہ لوگ ہیں کہ جب امام حسین علیہ السلام کے مکتب اور ان کی راہ میں ان کا خون مظلومانہ طور پر زمین پر بہتا ہے تو امت اسلام اٹھ کھڑی ہوتی ہے اور وہ وقت عاشورہ سے اور وہ جگہ کربلا سے متصل ہو جاتی ہے۔ اس وقت بھی اسی حسینی جوش و جذبے نے، ہماری امت کو بعثت عطا کی ہے اور خمینی کبیر اور خامنہ ای شہید کے مکتب کو ایک نئی آب و تاب عطا کر دی ہے۔ یہی وہ عظیم ولولۂ حیات بخش ہے جو امام حسین علیہ السلام کی مظلومیت اور ھل من ناصر ینصرنی کی ندا کی بازگشت بن کر پہلے ایران، پھر عراق اور اس کے بعد دیگر ممالک میں گونج رہا ہے اور باطل کی بنیادوں میں زلزلہ برپا کر رہا ہے۔ اسی مناسبت سے ایران اور عراق کے شہروں اور دیہاتوں بالخصوص تہران، قم، نجف، کربلا اور مشہد میں کروڑوں افراد کی حیرت انگیز، دشمن شکن اور تاریخی شرکت کی میں دل کی گہرائی سے قدردانی کرتا ہوں۔
ہماری ملت، (امام) حسینؑ کے خون کا انتقام لینے والی (ملت) ہے۔ اس عظیم ملت نے برسوں تک (امام) حسینؑ کی راہ میں اور (امام) حسینؑ کے دشمنوں اور حسینی مکتب کے مخالفین کے خلاف جنگ میں، اپنے فرزندوں کو قربان کیا ہے اور ابھی بھی یہ ملت اُن کے اور اس دور کے حسینیوں کے خون کا انتقام لینے والی (ملت) ہے۔
اب ہم اپنے رہبر شہید سے عرض کرتے ہیں: اے مظلوم مقتول! اے سرفراز مظلوم! اے خدا کے صالح بندے! اب جب ہم اشک بار آنکھوں اور غم زدہ دلوں کے ساتھ آپ کے جسم اطہر کو الوداع کہہ رہے ہیں تو آپ سے عہد کرتے ہیں کہ آپ کے مکتب کی حفاظت کریں گے، اس سیدھے راستے پر ثابت قدمی سے چلیں گے جو آپ نے ہمیں دکھایا ہے اور اس راہ کی مشکلات سے ہرگز نہیں گھبرائیں گے اور آپ ہی کی طرح الٰہی بشارتوں اور وعدوں پر مکمل بھروسہ رکھیں گے۔ ہم عہد کرتے ہیں کہ آپ کے پاک خون اور ان (آخری) دونوں جنگوں کے تمام شہداء کے خون کا انتقام ان مجرم اور رسوا قاتلوں سے ضرور لیں گے۔ یہ انتقام ہماری ملت کا مطالبہ ہے اور یہ ہر صورت میں ضرور لیا جائے۔ ان مجرموں کی، جن کی فہرست اوّل سے آخر تک ہمارے پاس موجود ہے، پُرسکون موت مرنے اور بستر پر جان دینے کی آرزو بھی اپنے ساتھ قبر لے جائیں گے۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ معاملہ صرف میری یا دیگر ذمہ داران کی موجودگی پر موقوف نہیں ہے۔ ہم ہوں یا نہ ہوں، یہ (انتقام کا) مقصد حاصل ہوگا اور بہت جلد پوری دنیا کے آزادگان میں سے ہر ایک اس الٰہی ذمہ داری کے کسی نہ کسی حصے کو انجام دے گا۔
اے امت کے شہید باپ! شہادت کا وہ جام نوش کرنا، جس کی آپ نے عمر بھر آرزو کی، آپ کو مبارک ہو۔ شہادت کا وہ لباس اس جسم پر زیب تن کرنا آپ کو مبارک ہو جس پر آپ کی مادر گرامی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، آپ کے جد حضرت امام حسین علیہ السلام اور حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کی نشانیاں موجود ہیں ، آپ کو مبارک ہو۔ آپ اے ان کے مظلوم ساتھیو! جو دشمن کے اچانک حملے کا نشانہ بنے اور درجۂ شہادت پر فائز ہوئے، آپ خوش نصیب ہیں کہ آج اس مولا کے مہمان ہیں جن کی عطوفت و مہربانی کو شاید آپ نے دنیا میں بارہا محسوس کیا ہوگا۔ وہ عظیم ہستی جو سبھی کے لیے بالخصوص اس سرزمین کے لوگوں کے لیے رحمت الٰہی کا دروازہ ہے، آج آپ کی میزبان ہے اور ان کا محفوظ جوار اب آپ کا گھر بن گيا ہے۔
اور آپ، اے عظیم المرتبت آقا! اے بزرگوار! اے امام رؤوف، یا اباالحسن الرضا المرتضیٰ، جن پر اللہ تعالیٰ کا بہترین درود و سلام ہو! آج آپ کے ایک ایسے خادم کا پارہ پارہ جسم، جس نے برسوں مسلسل محنت، جہاد اور خدمت سے آپ اور اہلبیت اطہارؑ کی خدمت انجام دی، اپنے خاندان کے ان شہداء کے ساتھ، جن میں سے ہر ایک کربلا کے ایک شہید کی یاد تازہ کرتا ہے،
اس پاک سرزمین میں اس دن تک کے لیے آرام کر رہا ہے، جب خداوند عالم کے حکم سے آفتاب عالم تاب، حضرت بقیۃ اللہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف، پردۂ غیبت سے ظہور فرمائیں اور اس کرۂ ارض کے لوگوں پر اللہ کے نور رحمت کی بارش کریں۔
ہم امید رکھتے ہیں کہ وہ (امام زمانہؑ کے) ظہور کا دن بہت جلد آئے گا۔ اس دن صدیقین، شہداء اور اولیائے الٰہی میں سے درخشاں ستارے حضرتؑ کے ہمراہ ہوں گے۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ ہمارے یہ شہید بزرگوار (شہید امام خامنہ ایؒ) بھی اُن میں سےایک ہوں گے اور ایک بار پھر وہ جہاد، وفاداری اور “عہدِ اَلَسْتُ” کی پاسداری کے ایسے روشن اور بے مثال مناظر پیش کریں گے اور شاید اُن کے یہ شہید ساتھی بھی اُس دن ان کے ہمراہ ہوں گے۔
اے ہمارے مہربان مولا! ہم اپنے اس بزرگوار کو، جس نے اپنی ہر چیز آپؑ کی راہ میں قربان کر دی اور اُن کے تمام شہید ساتھیوں کو آپؑ کی بارگاہ، لطف و کرم اور عنایت کے سپرد کرتے ہیں تاکہ جس طرح وہ دنیاوی زندگی میں آپؑ کے لطف و عنایت سے فیض یاب ہوتے رہے، اسی طرح اب بھی، بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر، ان سے بہرہ مند رہیں۔
آخر میں، ہم ایک بار پھر اپنے آقا حضرت بقیۃ اللہ الاعظم عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہیں اور اس مہربان بزرگوار سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنی پاکیزہ دعاؤں میں ایران کے اس شہید بزرگوار، اُن کے شہید ساتھیوں اور تمام شہداء کو یاد فرمائیں اور اللہ تعالیٰ، جو بلند و برتر ہے، کی بارگاہ میں تمام شہداء کے درجات کی بلندی کی دعا فرمائیں اور اُن کے پسماندگان کے لیے صبر اور اجر کی دعا کریں اور ملتِ مظلومِ ایران کے لیے یقینی، فیصلہ کن اور قریب الوقوع فتح و نصرت کی دعا فرمائیں، ان شاء اللہ۔
ولی امر مسلمین آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای
9 جولائی 2026
