
بسم اللہ الرحمن الرحیم
لبَّیک، اللّھم لبَّیک، لبَّیک لا شریکَ لَکَ لبَّیک، اِنَّ الحَمدَ وَ النِّعمَۃَ لَکَ وَ المُلک…
اے خدا! میں تیری دعوت پر لبیک کہتا ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں اور ساری تعریفیں اور ساری نعمتیں اور مُلک و قدرت تیری طرف سے ہیں اور تجھ ہی سے تعلق رکھتی ہیں …
اس سال کا موسم حج بھی آ گیا اور امتِ مسلمہ کے حجاج گرامی نے بندگی کا احرام پہنا اور لبیک، اللھم لبیک کی صدائيں بلند کیں تاکہ مادی اور معمول کی زندگی سے الہٰی اور باسعادت زندگی کی طرف ہجرت کریں، اللہ جلّ جلالہ کی بندگی کے محور اور اللہ کے شریکوں کی نفی، انکار اور برائت پر مبنی زندگی کی طرف۔ البتہ اس ہجرت کا موقع صرف اس سال کے حجاج کرام اور خانۂ خدا کے زائرین کو ہی حاصل نہیں ہے بلکہ یہ موقع، ایران اور پوری دنیا کے مسلمانوں کے تمام برادران و خواہران کو، چاہے وہ جو اپنی عمر کے کسی حصے میں حج کر چکے ہیں، چاہے وہ جو ابھی حج کے مناسک ادا کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائے ہیں، حاصل ہے۔
اس ہجرت کی شرط، اللہ کے ذکر کے محور پر دائمی احرام باندھنا ہے، حق کے محور کے گرد دائمی طواف کرنا ہے، الہٰی وظائف کی مشکل چوٹیوں کے درمیان دائمی سعی کرنا ہے، خبیث شیطان کو، اس کے گمراہ کن جلوؤں اور تمام پٹھوؤں کے ساتھ، ہمیشہ کنکریاں مارنا ہے، اللہ کی طرف مکمل توجہ اور خصوع و خشوع کے ساتھ وقوف ہے، راہ میں رہ جانے والے مسکین غریب کو کھانا کھلانا ہے، گمراہ کرنے والی اپنی نفسانی خواہشات اور چاہتوں کو قربان کرنا ہے اور اپنی اندرونی غلاظتوں کو صاف کرنا اور ہر وقت اور ہر صورتحال میں خدمت کے لیے اور حق کے دفاع کے پرچم کو لہرانے کے لیے تیار رہنا ہے۔
یوں ایرانی قوم نے اسلامی انقلاب کے میقات میں اسی ہجرت کی راہ پر قدم رکھا، خمینی کبیر کی ابراہیمی ندا پر لبیک کہا، اغیار کے تسلط کو تسلیم کرنے کا لباس اتار پھینکا، دنیوی و اخروی سعادت کا احرام باندھا اور لبیک کہتے ہوئے اور ہرولہ کرتے ہوئے، خالص محمدی اسلام کی تعلیمات کے محور پر طواف کرنے اور اپنے آپ کو عالمی عدل اور ولایت عظمیٰ کے نور عالم تاب سے قریب کرنے کی کوشش کی۔ اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ واللہ اکبر، اللہ اکبر و للہ الحمد، اللہ اکبر علی ما ھدانا۔
جی ہاں! اللہ اکبر … اور اسی اللہ اکبر کے ہتھیار کے ذریعے ایران کی مسلمان قوم نے سینتالیس سال پہلے قیام کیا، پہلوی کی طاغوتی، آمر اور پٹھو حکومت کا تختہ الٹ دیا، لالچی اور مستکبرامریکہ کے ہاتھ ایران سے کاٹ دیے اور صیہونی حکومت کے اثر و رسوخ کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔
اسی اللہ اکبر کے اسلحے کے ذریعے، سرزمین ایران پر صدام کی بعثی حکومت کی جارحیت کے بعد اپنی جان کی پرواہ نہ کرنے والے غیور مجاہدوں اور جوانوں نے آٹھ سالہ مقدس دفاع کا کارنامہ رقم کیا اور مشرق و مغرب کی تمام طاقتوں کی جانب سے بعثی حکومت کی بھرپور حمایت کے باوجود اسے اس کی اوقات دکھا دی اور اس استقامت کو اگلے برسوں میں معاشی محاصرے، بغاوت، ظالمانہ پابندیوں اور اسلامی جمہوریہ کے خلاف دشمنوں کے بے شمار سیاسی، تشہیراتی اور معاشی حملے کے خلاف پوری طاقت اور استحکام کے ساتھ جاری رکھا۔
واللہ اکبر … اللہ اکبر کا یہی نعرہ تھا جس نے ایران سے لے کر لبنان، فلسطین، عراق اور شام تک اور افریقا اور یمن سے لے کر افغانستان و پاکستان اور دنیا کی تمام حریت پسند اقوام تک، امت مسلمہ اور مزاحمتی محاذ کے مجاہد جوانوں کے آپسی رشتوں کو مضبوط بنایا تاکہ اللہ کی یہ مضبوط رسی، غاصب صیہونی جارحین کے مقابلے میں امت مسلمہ کے دفاع کے لیے اٹھ کھڑی ہو، داعش کا شیرازہ بکھیر دے، طوفان الاقصیٰ کھڑا کر دے اور متزلزل صیہونی حکومت کی سانسیں روک دے۔
اللہ اکبر، جی ہاں! خداوند متعال اس سے کہیں بزرگ و برتر ہے کہ اسے دائرۂ توصیف میں لایا جا سکے … یہ اللہ اکبر کا ہتھیار ہی تھا کہ جس پر توکل کرتے ہوئے اسلامی جمہوریۂ ایران، صیہونی حکومت کو جون 2025 میں دوسری مسلط کردہ جنگ میں اپنے وحشت ناک حملوں سے لاچار کرنے، جارح امریکہ کو زوردار تھپڑ رسید کرنے اور ایران کو جھکانے کے اس کے ہدف میں ناکام کرنے میں کامیاب ہوا۔
اللہ اکبر کے اسلحے نے ایرانی قوم کو ایسی قوت و طاقت عطا کی کہ آج کی دنیا کے شقی ترین لوگوں کے ہاتھوں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے فرزند خلف، قائد عظیم الشان حضرت آيت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای اعلی اللہ مقامہ کی شہادت کے جاں گداز واقعے کے بعد اسے الہٰی بعثت حاصل ہوئی اور ہر اس میدان میں جہاں ضرورت تھی، اس قوم نے بھرپور طریقے سے موجود ہو کر اپنے پُرافتخار کارناموں پر دنیا کو حیرت زدہ کر دیا۔
اللہ اکبر، بے شک خداوند متعال اس سے کہیں بزرگ و برتر ہے کہ اسے توصیف کے دائرے میں لایا جا سکے … اسی اللہ اکبر کے ہتھیار کے ذریعے اسلامی مملکت ایران میں غیور مجاہدوں اور جان کی قربانی دینے والی فورسز نے مزاحمتی محاذ خاص طور پر لبنان عزیز کی مزاحمتی فورسز کے ساتھ مل کر تیسری مسلط کردہ جنگ میں امریکہ اور صیہونی حکومت کی از سر تا پا مسلح دو دہشت گرد فوجوں کے خلاف زبردست فتوحات حاصل کیں، خداوند عالم پر توکل کرتے ہوئے اور اپنے میزائلوں اور ڈرون طیاروں کے ذریعے بڑے شیطان اور اس کے پالتو کتّے صیہونی حکومت کو زمین، فضا اور سمندر میں بری طرح سنگسار کیا اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی مدد کے سچے وعدۂ الہٰی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
ایک بار پھر اللہ اکبر، بے شک خداوند متعال اس سے کہیں بزرگ و برتر ہے کہ اسے توصیف کے دائرے میں لایا جا سکے اور اس کا لشکر ہر طاقت پر فتحیاب ہے… اور اسی اللہ اکبر کے اسلحے کے ذریعے، ایرانی قوم اور مزاحمتی محاذ کی بعثت اور اٹھ کھڑے ہونے کے بعد، امت مسلمہ کی بعثت سامنے آئے گی اور مشرکوں سے برائت، حج کی رمی جمرات سے لے کر پوری دنیا میں ہر جگہ مسلمانوں کی انفرادی، سماجی اور سیاسی زندگی کے تمام پلیٹ فارموں تک پھیل جائے گی۔
امت مسلمہ اور خطے کی اقوام کے درمیان بہت زیادہ مشترکہ صلاحیتیں اور مفادات ہیں جو خطے اور دنیا کے مستقبل کا نیا نظام تشکیل دیں گے۔ میں پوری صداقت اور اخلاص سے تمام اسلامی ممالک اور حکومتوں کو دوستی، تعاون، خیر خواہی اور نیکی کی دعوت دیتا ہوں کہ ہم باہمی تعاون کے ذریعے امت مسلمہ کی پیشرفت اور عالم اسلام کے مسائل کے حل کی راہ میں قدم اٹھائيں۔
جو چیز اس سلسلے میں یقینی ہے وہ یہ ہے کہ وقت کی سوئیاں، واپس نہیں ہوں گی اور خطے کی اقوام اور ان کی سرزمینیں، اب کبھی امریکی اڈوں کی ڈھال نہیں بنیں گی۔ اب امریکہ کے پاس خطے میں شیطانی حرکتوں اور فوجی اڈے بنانے کا کوئی محفوظ ٹھکانہ نہیں ہوگا اور ساتھ ہی وہ روز بروز اپنی پرانی پوزیشن سے دور ہوتا جائے گا۔ متزلزل صیہونی اور اسرائیل کی سرطانی حکومت بھی اپنی منحوس عمر کے آخری مراحل کے قریب ہو چکی ہے اور اللہ کے فضل سے اور رہبر عظیم الشان قدس سرّہ کے دس سال پہلے کے ٹھوس اور مستقبل بین قول کے مطابق، وہ اس تاریخ کے بعد کے پچیس سال نہیں دیکھ پائے گی، ان شاء اللہ۔
اس وجہ سے اس سال مشرکوں سے اظہار برائت کی اہمیت دگنی ہو جاتی ہے اور امریکہ اور اسرائیل سے برائت کا میدان، حج کے موسم میں مشرکین سے برائت کے عمل سے آگے بڑھ جاتا ہے اور ایران اور دنیا کے مختلف علاقوں تک اور ان مبارک ایام کے بعد بھی امریکہ مردہ باد اور اسرائیل مردہ باد، امت مسلمہ اور دنیا بھر کے مظلوموں، خاص طور پر جوانوں کا رائج نعرہ بن جائے گا۔
مستقبل، امت مسلمہ اور نئے اسلامی تمدن کا ہے اور ہم میں سے ہر ایک اپنے حوصلے، صلاحیت اور ذمہ داری کے مطابق اس مستقبل کو عملی جامہ پہنانے اور اس سے قریب ہونے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔
اس سال کے حج میں ایرانی حجاج کرام اور زائرین خانۂ خدا، دوسرے ملکوں کے اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کو تیسری مسلط کردہ جنگ میں فتح کی تشریح اور تابناک مستقبل کی طرف سے انھیں پرامید بنانے میں مؤثر اور نمایاں کردار کے حامل ہیں۔
میں تمام حجاج کرام سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ انسانیت کے نجات دہندہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ظہور میں تعجیل کے دعا کا اہتمام کریں اور امت مسلمہ کے اتحاد، فلسطین اور مسجد الاقصیٰ کی آزادی، مسلمانوں کی بڑی مشکلات کی برطرفی اور عالمی سامراج کے خلاف ان کی حتمی کامیابی کے لیے دعا کریں اور حقیر کو بھی اپنی دعاؤں میں شامل کریں۔
اے پروردگار! محمد اور آل محمد پر درود بھیج اور تمام حجاج کرام اور پوری امت مسلمہ پر لطف و رحمت کی نظر کر، انھیں مقبول حج کی توفیق عطا کر، ان کے دلوں کو معرفت اور بصیرت کے نور سے منور کر دے اور امت کی اصلاح کی راہ پر چلنے اور اسلام کے دشمنوں پر آخری فتح کے لیے ان کے عزم و ارادے کو مزید مضبوط کر دے۔
اے پروردگار! شہدائے راہ خدا بالخصوص مزاحمتی محاذ کے شہیدوں اور ان میں سر فہرست رہبر عظیم الشان شہید خامنہ ای اعلی اللہ مقامہ کی پاکیزہ ارواح پر اپنا فضل اور اپنی وسیع رحمت نازل فرما اور ان حاجیوں کے حج، عابدوں کی عبادت اور جدوجہد کرنے والوں کی سعی میں سے رہبر شہید کی ملکوتی روح کو ایک وافر حصہ مرحمت فرما جو قائد امت کی ہدایت سے بہرہ مند ہوئے ہیں اور ایرانی قوم اور ان کی راہ اور ہدف کو جاری رکھنے میں امت مسلمہ کی مدد کر۔
اے پرودگار! اپنی برترین صلوات اور تحیت ہمارے آقا و مولا مہدئ منتظر صلوات اللہ و سلامہ علیہ اور ان کے پاکیزہ اجداد پر نازل فرما اور ہم سبھی اور امت مسلمہ کو ان کی خالص اور مستجاب دعاؤں میں شامل کر اور دنیا کو ان کے مبارک قدموں سے منور کر دے، جیسا کہ تو نے وعدہ کیا ہے اور ہمارے دل اس ٹھوس وعدے پر اطمینان سے لبریز ہیں۔
“وَعَدَ اللهُ الَّذینَ آمنوا مِنکُم وَ عَمِلوا الصّالِحاتِ لَیَستَخلِفَنَّهُم فیالارضِ کَما استَخلَفَ الَّذینَ مِن قَبلِهِم وَ لَیُمَکِّنَنَّ لَهُم دینَهُمُ اَلَّذِی ارتَضی لَهُم وَ لَیُبَدِّلَنَّهُم مِن بَعدِ خَوفِهِم اَمنا.”
(تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے اللہ نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ وہ انھیں زمین میں اسی طرح جانشین بنائے گا جس طرح ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بنایا تھا۔ اور جس دین کو اللہ نے پسند کیا ہے وہ انھیں ضرور اس پر قدرت دے گا۔ اور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا۔)
والسّلام علی جَمیع اخواننا المسلمین و رحمۃ اللہ و برکاتہ
سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای
26 مئی 2026
9 ذی الحجہ 1447
