
بسمالله الرّحمن الرّحیم
میں اہلبیتؑ کے ایّامِ مصیبت اور حضرت ثارُ اللہؑ پر اور ان سب پر اللہ کی رحمتیں اور سلام بھیجتا ہوں نیز ان کے باوفا ساتھیوں کی شہادت پر، پوری ملتِ ایران اور امتِ اسلامی کی خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہوں۔
حسینی تحریک اور قیام، حق کے قیام، امت کی اصلاح اور ظلم و ستم کے مقابلے کے لیے، حق و باطل اور عدل و ظلم کے مقابلہ کرنے کی تاریخ میں بلند ترین چوٹی ہے اور یہ دنیا کے تمام حریت پسند انسانوں کے لیے نہایت قیمتی اور کبھی نہ بھلائے جانے والے اسباق رکھتا ہے۔ حضرت سیّد الشہداءؑ کے خون کو “خونِ خدا” کہا جاتا ہے، جو گویا کائنات کی رگوں میں جاری ہو چکا ہے اور حیات بخش حماسے جنم دیتا رہتا ہے۔ ایران کی اسلامی تحریک اور انقلاب، چونکہ اسی نورانی سرچشمے کی ایک شاخ ہے، اس لیے اسے ہمیشہ قیامِ حسینی کے اہداف کے حصول کے درپے رہنا چاہیے۔ ہر سال 28 جون (کا دن) انقلاب کی اس عظیم شخصیت کی یاد تازہ کرتا ہے جس نے “قوۂ قضائیہ (عدلیہ)” کے سربراہ کی حیثیت سے اس مقصد کے لیے مسلسل اور انتھک جدوجہد انجام دی؛ یہاں تک کہ وہ انقلاب کے مخلص ساتھیوں کے ایک گروہ کے ساتھ شہادت کا جام نوش کر گئے اور ان کی مظلومیت، نیز ان کے ساتھ شہید ہونے والے 72 شہداء کی تعداد، اس نظام اور اس کے معماروں کے حسینی ہونے کی ایک تائید بن گئی۔
اسلامی جمہوریۂ ایران کے نظام میں “قوۂ قضائیہ (عدلیہ)” کی ذمہ داری عوام کے حقوق کا تحفظ، عوامی حقوق کی بحالی اور مشروع آزادیوں کا تحفظ، فساد کا مقابلہ، عدل کا نفاذ، الٰہی حدود کا قیام اور قانون کے نفاذ کی نگرانی کرنا ہے۔ اس راستے میں کامیابی کا ثمرہ، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے علاوہ، نظام کے ستون پر عوام کے اعتماد کا مزید مضبوط ہونا بھی ہوگا۔ تمام (سیاسی) قوتوں، اداروں اور متعلقہ ذمہ دار اداروں سے برحق توقع یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کو اسلامی جمہوریہ ایران کے مقدس نظام کے مطلوبہ معیار اور ملت کے بلند مقام کے مطابق منظم اور ازسرِنو مرتب کریں۔ اس سلسلے میں “قوۂ قضائیہ (عدلیہ)” کو معاملات کی اصلاح اور نظام کے دیگر شعبوں کو متحرک کرنے کے لیے ایک منفرد بلکہ بے مثال مقام حاصل ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ خود اس “قوۂ قضائیہ (عدلیہ)”کے اندر بھی اصلاح اور ازسرِنو تعمیر کے عمل کو مسلسل آگے بڑھایا جائے۔ اس وقت معاشرے کی عمومی توقع یہ ہے کہ “قوۂ قضائیہ (عدلیہ)” کی کارکردگی میں اس امر پر عملی طور پر عمل ہوتا ہوا نظر آئے؛ اس طرح کہ عدالتی تحول، تبدیلی کی دستاویز، منصوبوں اور لائحۂ عمل میں درج الفاظ سے نکل کر عملی صورت اختیار کرے اور اس کے آثار متعلقہ تمام میدانوں میں، عدالتی اداروں کے کمروں اور عدالتوں کے اجلاسوں سے لے کر عوامی مقامات اور سماجی فضا تک نمایاں ہو جائیں۔ اس انداز سے کہ لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں اس کے مثبت اثرات کو ہر قسم کے فساد کے خلاف مضبوط کارروائی، حقوق کی پامالی میں کمی، تیز تر سماعت، ججوں کے فیصلوں کی دیانت اور مضبوطی میں بہتری اور عدل کے معیارات تک زیادہ آسان رسائی کی صورت میں محسوس کریں۔ “قوۂ قضائیہ (عدلیہ)” کی اس مطلوبہ تصویر میں عدل کا نفاذ اس مقام تک پہنچنا چاہیے کہ ہر مظلوم اسے اپنا محفوظ سہارا سمجھے اور خصوصاً وہ لوگ جو کسی نہ کسی نوعیت کی طاقت یا اختیار رکھتے ہیں، دوسروں کے حقوق پر دست درازی کی جرات نہ کر سکیں اور اس میں سفارش اور سفارشی دباؤ کا دروازہ مکمل طور پر بند ہو، نیز اس کے کسی شعبے میں کسی جان پہچان رکھنے کو کسی قسم کی برتری یا فائدہ شمار نہ کیا جائے۔
البتہ ملت کے حقوق دلانا، صرف انفرادی مسائل تک محدود نہیں ہوتی بلکہ ان کے مختلف عوامی اور سماجی حقوق بھی، اقتصادی تحفظ کے حق اور مواقع تک منصفانہ رسائی کے حق سے لے کر، قدرتی نعمتوں سے منصفانہ طور پر استفادہ کرنے کے حق، صحت مند ماحول، جائز آزادیوں اور مؤثر طرزِ حکمرانی تک، یہ سب بھی عدل کے فروغ کے لیے اہم امور میں شمار کیے جاتے ہیں۔ اس دور میں پوری ملتِ ایران سے متعلق اہم ترین قانونی اور عدالتی مسائل میں سے ایک یہ ہے کہ ان کے پامال شدہ حقوق کی بررسی، بازیابی اور انہیں دلانے کے لیے کوشش کی جائے جو بین الاقوامی مجرموں، عالمی استکباری طاقتوں اور جارح قوتوں کے جرائم کے نتیجے میں پامال ہوئے ہیں، خصوصاً سن ۱۴۰۴ اور ۱۴۰۵ (ایرانی سال) کے دوران۔
مسلط کی گئی دوسری اور تیسری جنگ کے مظلوم شہداء کے خون سے لے کر، ہمارے عزیز ملک اور ایران کی مظلوم ملت کے ہر ہر فرد پر، ملک کے اندر بلکہ بیرونِ ملک بھی، پہنچنے والے جسمانی، روحانی، مادی اور معنوی نقصانات و صدمات تک؛
میناب اور لامِرد میں بچوں کے قتل اور بے سابقه جنگی جرائم سے لے کر طبی اور خدماتی مراکز پر حملوں تک؛ چند روز کے نومولود بچوں سے لے کر عزیز بزرگوں کے قتلِ عام تک؛ اور ان سب کے سرِفہرست، اس بے مثال شخصیت، اس بے نظیر گوہر، اپنے عہد کے یگانہ رہنما، عظیم مجاہد پیشوا، -اللہ ان کا مقام اللہ مزید بلند فرمائے-کی شہادت؛ ان میں سے ہر ایک مقدمہ، سینکڑوں بلکہ ہزاروں اہم قانونی مقدمات پر مشتمل ایک مستقل مقدمہ تشکیل دیتا ہے، جس کی داخلی اور بین الاقوامی عدالتی فورمز میں پوری سنجیدگی کے ساتھ ان کی جانچ پڑتال ہونی چاہیے۔ جو بات یقینی ہے، وہ یہ ہے کہ مجرموں کا مؤاخذہ کیا جانا چاہیے اور انہیں ان کے مجرمانہ اعمال کی سزا تک پہنچایا جانا چاہیے۔
اس معاملے میں اہم بات یہ ہے کہ بعض امریکی اور صہیونی رہنماؤں نے نہ صرف ان جرائم کا اعتراف کیا بلکہ ان پر ڈھٹائی سے فخر بھی کیا اور یہ خود جرم کا اقرار ہے، جو ملت کے پامال شدہ حقوق کو دلوانے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔
ثانیاً، گزشتہ سال تیر ماہ میں عدالتی ذمہ داران سے اپنی آخری ملاقات کے دوران شہید رہبرِ انقلاب کی جانب سے مسلط کی گئی دوسری جنگ میں ہونے والے جرائم کی قانونی رسیدگی کے بارے میں دی گئی ہدایت پر توجہ اور اس کے نفاذ کے لیے سنجیدہ کوشش کا تقاضا یہ ہے کہ اس قانونی کارروائی کا دائرہ مسلط کی گئی تیسری جنگ تک بھی وسیع کیا جائے، اور اس کی مسلسل کارروائی اس وقت تک جاری رکھی جائے جب تک عدالتی فیصلہ صادر نہ ہو جائے اور اس پر عمل درآمد ذمہ دار اداروں کے سپرد نہ کر دیا جائے۔ یہ اقدام خود اپنے طور پر اس قسم کے جرائم کی تکرار کی روک تھام کا سبب بنے گا۔
البتہ عدالتی نظام میں ہمہ جہت تبدیلی کے راستے میں کامیابی اور بیان کردہ اہداف تک زیادہ تیزی سے پہنچنے کے لیے مختلف تدابیر اور متعدد ضروری تقاضے درکار ہیں جنہیں زیادہ تر عدالتی ذمہ داران سے سالانہ ملاقاتوں میں عظیم المرتبت شہید رہبرِ انقلابؒ کی مفصل سفارشات اور تاکیدات میں بارہا بیان کیا جا چکا ہے اور ان پر سنجیدگی کے ساتھ توجہ دینا اور انہیں عملی جامہ پہنانے کے لیے بھرپور کوشش کرنا، جو محترم عدالتی ذمہ داران کی کامیابی کی کلید سمجھی جاتی ہے، میرے نزدیک بھی نہایت اہم اور سنجیدہ توقع ہے۔
عدل کے قیام اور ظلم و فساد کے خلاف جدوجہد کا راستہ ایک دشوار راستہ ہے جو اخلاص اور توکل، اعلیٰ درجے کے تقویٰ کی پابندی، مضبوط جذبے اور پختہ عزم، مسلسل محنت اور دوچند ہمت، شجاعت اور قاطعیت، پیش قدمی، نیز جدید ٹیکنالوجی سے صحیح استفادہ اور امور کی ہوشمندانہ تنظیم کے ذریعے ہموار ہوگا۔ ان تمام امور کی تکمیل، ان شاء اللہ، اللہ تعالیٰ کے اذن سے اور ہمارے آقا، عدلِ منتظر، حضرت (امام مہدیؑ) عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی عنایات کے سائے میں ممکن ہوگی۔
سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای
28 جون 2026
