بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اَلْحَمْد للّٰہ الَّذی جَعَلَ کَمَالَ دینہ وَ تَمَامَ نعْمَتہ بولَایَۃ اَمیْرالْمؤْمنیْنَ عَلی بْن اَبی طَالبٍ علیہ السلام

تمام حمد و ثنا اس اللہ کے لیے ہے جس نے اپنے دین کے کمال اور اپنی نعمت کی تکمیل کو امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالبؑ کی ولایت میں قرار دیا۔

میں عید سعید غدیر کی مبارک باد ایران اور پوری دنیا کے تمام مسلمانوں اور امت مسلمہ کے پدر گرامی، امیرالمؤمنین علیؑ کے چاہنے والوں کی خدمت میں پیش کرتا ہوں اور امام خمینیؒ کی روح مطہر پر درود و سلام بھیجتا ہوں۔ اس سال یہ سینتیسویں 4 جون کی تاریخ ہے جو امام خمینی کے فراق کو گزر رہی ہے اور یہ پہلی 4 جون کی تاریخ ہے جب امت کے مہربان باپ، مکتب امام خمینیؒ کے مرید اور وفادار و ممتاز ساتھی، انقلاب اسلامی کے عظیم رہبر شہید حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای اعلی اللہ مقامہ ضیافت الٰہی کے مہمان بنے ہیں اور امام خمینی کے مزار اقدس میں ان کی مضبوط آواز اور حکمت و بصیرت سے بھرپور کلام کی گونج سنائی نہیں دے رہی ہے لیکن جمہوری اسلامی کے بانی کے دس سالہ اور عظیم الشان رہبر شہید کے چھتیس سالہ بیان، خطاب اور تحریریں ہم سب کے لیے ایک گراں قدر اور بے مثال خزانہ اور مستقبل کی راہ کا چراغ ہیں۔

سب سے پہلے تو یہ کہ آج عید غدیر اور عید اللہ الاکبر ہے، اللہ کی جانب سے لیے گئے عہد و میثاق کا وہ دن جب خداوند عالم نے اسلامی معاشرے اور اسلامی نظام کا انتظام چلانے کا معاملہ طے کر دیا اور حضرات معصومین علیہم السلام کی مسلسل ولایت و امامت کے ذریعے دین کو کامل اور اپنی نعمت کو پورا کر دیا۔

عید غدیر اس ہستی کی یاد دلاتی ہے جس نے کعبے میں ولادت سے لے کر شہادت کی سعادت پانے تک اپنی پوری زندگی خدا کے لیے اور خدا کی راہ میں گزاری۔ اسی بنا پر رسول اکرمؐ کے بعد امیر المومنینؑ اپنی زندگي کے تمام ادوار میں اور تمام مسلمانوں و مومنین کے لیے اعلیٰ ترین نمونہ اور مکمل اسوہ ہیں اور مناسب اور لازمی ہے کہ کم سن بچوں سے لے کر عمر رسیدہ افراد تک، اور عام لوگوں سے لے کر اہل فکر و دانش اور رہنماؤں تک، سب ان کی پیروی کریں، جس طرح انقلاب کے دونوں اماموں کی زندگی کا سب سے بڑا اعزاز بھی اسی عظیم ہستی کی پیروی رہا ہے۔

دوسرا یہ کہ آج امام امت  کی برسی ہے اور اس مشہور لیکن کم پہچانی گئی شخصیت کے بارے میں غور و فکر اور گفتگو کا ایک قیمتی موقع بھی ہے۔ ایسی پرکشش شخصیت کہ جس کی نورانی راہ اور ہدف کی گہری شناخت و معرفت، اسلامی مملکت ایران کے مستقبل کے لیے مشعل راہ ہے لیکن قوم کے بہت سے جوان افراد کو ان کی براہ راست زیارت اور شناخت کی توفیق حاصل نہیں ہوئی بلکہ ایسے بہت سے لوگ بھی، جنھوں نے ان کی زندگی کا زمانہ دیکھا، ان کی شخصیت کی گہرائی اور ان کی راہ و روش تک کم ہی پہنچ سکے۔

قَالَ اللہ تَعَالٰی: قلْ انَّمَا اَعظكمْ بوَاحدَۃٍ اَنْ تَقوموا للّٰہ مَثْنٰی وَ فرَادٰی۔ (سورۂ سبا، آيت 46) خداوند متعال اس آیت شریفہ میں رسول اعظمؐ کو مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ امت سے کہہ دیجیے: میں تمھیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں، یہ کہ تم اللہ کے لیے دو دو کر کے یا ایک ایک کر کے اٹھ کھڑے ہو۔ یہ آیت اس پہلے پیغام اور ان قدیم ترین دستاویزات میں سے ایک کا آغاز ہے جس میں ہمارے عہد کے اس بے مثال بندۂ صالح، انقلاب کے عظیم رہبر اور جمہوری اسلامی کے بانی نے ایرانی قوم کو اللہ کے لیے قیام کی دعوت دی تھی۔ جی ہاں، اللہ کے لیے قیام، مکتب امام خمینیؒ کی بنیاد ہے اور ان کی ہستی کی اہم ترین برکتوں میں سے ایک یہی ہے کہ انھوں نے اسی اصول کی بنیاد پر معاشرے کی ہدایت و تربیت کی اور اس پر گہرا اثر ڈالا۔ یہی الہی تحریک، اللہ کی برکتوں اور عنایتوں کے نزول کا سرچشمہ بنی اور اسی کے ذریعے حق کی راہ کی طرف معاشرے کی راہنمائی کی خداوند عالم کی سنت جاری ہوئی کہ وَالَّذیْنَ جَاھَدوْا فیْنَا لَنَھْدیَنَّھمْ سبلَنَا (اور جو لوگ ہمارے لیے جہاد کرتے ہیں ہم ان کو ضرور اپنے راستے دکھا دیتے ہیں۔ سورۂ عنکبوت، آيت 69) کیا ایسا نہیں ہے کہ ایرانی قوم کی سب سے بڑی عوامی تحریکیں اور بعثتیں خمینئ کبیر اور رہبر عظیم الشان شہید خامنہ‌ایؒ کے دور میں، براہ راست یا بالواسطہ انھی کی ہدایات کے نتیجے میں وجود میں آئیں؟ کون سی عظیم طاقت 5 جون 1963 کو سامراج و استعمار کے سحر میں گرفتار اور غفلت زدہ قوم کو ایسی حالت سے بیدار کر سکتی تھی؟ جب گھٹن، جبر اور مغرب پر مکمل انحصار مسلط تھا؟ کون سی طاقت تھی جو 1 فروری 1979 کو امام خمینیؒ کے استقبال اور 4 جون 1989 کو امام امت کی آخری رخصت کے لیے دسیوں لاکھ انسانوں کو سڑکوں پر لے آتی؟ اور حالیہ حیرت انگیز نمونے میں، وہ کون سی مضبوط طاقت اور فولادی ارادہ تھا جس نے 28 فروری 2026 کی سحر سے ایرانی قوم کو اس طرح مبعوث کر دیا اور میدان میں لے آئی کہ تین ماہ سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود وہ اپنے شہید رہبرؒ اور دیگر شہداء کے خون کے انتقام کا مطالبہ کرنے، اسلامی نظام اور اپنے عزیز وطن کے دفاع کے لیے پوری گرم جوشی اور شدت کے ساتھ میدان میں موجود ہے اور کروڑوں جاں نثاروں کی صفوں کو رہبر شہیدؒ کے اہداف و مقاصد کو پورا کرنے اور حق کے قیام اور اللہ کے لیے قیام کے لیے مستحکم کیے ہوئے ہے؟

جی ہاں، یہی امام خمینیؒ اور عظیم الشان شہید خامنہ‌ایؒ تھے جنھوں نے ایرانی قوم کے اندر موجود اس استعداد اور آمادگی کو دریافت کیا، اسے فعال کیا اور ہمیشہ اسے خاص اہمیت دی۔ امام خمینیؒ نے، جو بلاشبہ اپنے بے مثال تقوی اور پرہیزگاری کے باعث قلم سے نکلنے والے ہر لفظ پر پوری توجہ رکھتے تھے، اپنی وصیت میں ایک عظیم دعویٰ کرتے ہوئے لکھا تھا: “میں پورے یقین کے ساتھ دعویٰ کرتا ہوں کہ آج کے دور میں ملت ایران اور اس کے کروڑوں افراد، رسول خدا کے زمانے کے حجاز کے لوگوں اور امیرالمؤمنین و امام حسین علیہما السلام کے دور کے کوفہ و عراق کے لوگوں سے بہتر ہیں۔” آج پوری ایرانی قوم کو فخر ہے کہ مزاحمتی محاذ کے شانہ بہ شانہ اپنی نئی بعثت کے ذریعے، وہ دنیا کی آزاد قوموں اور بیدار نگاہوں کے لیے باعث افتخار بنی ہوئی ہے اور اس نے امام خمینی کی وصیت کے اس جملے کی سچائی کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ رہبر شہید  اعلی اللہ مقامہ کے بقول، وہ طاقتور ہاتھ جس نے ملت کے عظیم سمندر میں تلاطم پیدا کر دیا، عظیم امام خمینیؒ کی فولادی شخصیت، مطمئن دل اور ذوالفقار جیسی زبان تھی، جس نے دسیوں لاکھ انسانوں کو میدان میں اتارا، انھیں میدان میں قائم رکھا اور انھیں آگے بڑھنے کی سمت سمجھائی۔ اور یقینی طور پر اسی طرح کے اثر کا ایک اور نمونہ خود خامنہ‌ایؒ عزیز سے متعلق تھا، جنھوں نے اپنے سلف صالح کے راستے پر قدم رکھا اور تقریباً چار عشروں تک انقلاب اور اسلامی نظام کی قیادت کے دوران نوجوانوں پر اعتماد، عوامی شعور کی گہرائی اور فکری سطح کی بلندی کے ذریعے معاشرے کو ایسی آمادگی تک پہنچایا کہ ان کی شہادت کے عظیم واقعے کے بعد ایرانی قوم کی بعثت کا ایک نیا نصاب سامنے آیا۔

جی ہاں، خامنہ‌ایؒ عزیز کا مکتب درحقیقت وہی امام خمینیؒ کا مکتب ہے جو خالص محمدی اسلام کا ہی تسلسل ہے اور جس کا بنیادی ڈھانچہ اللہ کے لیے قیام ہے۔ اس مکتب کے شاگرد صف بہ صف حق کے قیام، باطل کے خاتمے اور اس نورانی راہ میں مجاہدت کے لیے تیار ہیں۔ امام خمینیؒ ایران، اسلامی امت اور پوری دنیا کی سطح پر ایک بڑی اور تاریخی تبدیلی لانے والے تھے جسے رہبر شہید اعلی اللہ مقامہ نے مزید گہرائی، وسعت اور تسلسل عطا کیا، اور اس کی تکمیل و عملی جامہ پہننے کے لیے نظام سازی اور معاشرہ سازی کی۔ اسی سلسلے میں انھوں نے اپنے قول، قلم اور عمل کے ذریعے اور مختلف ملاقاتوں میں مکتب امام خمینی کو زندہ رکھا اور 4 جون کو ایرانی قوم اور امام خمینیؒ کے درمیان سالانہ تجدید عہد کے موقع میں بدل دیا۔ وہ ہمیشہ مکتب امام کے اصولوں، پالیسیوں اور فکری خطوط کی وضاحت اور تشریح کرتے رہے۔ ان تعلیمات میں سے ایک، جو شاید بار بار دوہرائی جاتی تھیں، یہ تھا کہ ایرانی قوم، ایک باایمان، ذہین اور بہادر قوم ہے اور یہ کہ عوام ہی ملک کے حقیقی مالک اور اس کی طاقت کا سرچشمہ ہیں، اور یہ کہ یہ قوم اگر کسی صحیح تبدیلی کا ارادہ کر لے تو اسے عملی جامہ پہنا سکتی ہیں اور “ہم کر سکتے ہیں” کے نعرے کو مختلف میدانوں میں حقیقت بنا سکتی ہیں۔ انھی تعلیمات میں، ایک اسلامی، انسانی اور ایرانی فریضے کی حیثیت سے مظلوم کی حمایت ہے۔ نیز یہ کہ عالمی تسلط پسندانہ نظام اور اس میں سرفہرست امریكہ، اس قوم، اس کے ممتاز تشخص اور اس کے سر نہ جھکانے والے مزاج کو برداشت نہیں کر پا رہا ہے۔

جی ہاں، یہی تسلط پسندانہ نظام، جس نے لگ بھگ اسّی برس پہلے اسرائیل نامی ایک فوجی اڈا قائم کیا تھا، فرات کے مشرق میں، اپنے نام نہاد اور جعلی “گریٹر اسرائیل” کی مشرقی سرحد پر ایک طاقتور، آزاد اور مختلف صلاحیتوں سے مالامال ایران کا وجود برداشت نہیں کر سکتا اور اس کی ترقی روکنے کے لیے کسی بھی کارروائی سے دریغ نہیں کرتا۔ اسی موقع پر میں عزیز قوم سے عرض کرتا ہوں کہ خبیث دشمن، جب سے اسے مسلح افواج میں موجود آپ کے بہادر فرزندوں کے مقابلے میں شکست کا سامنا ہوا ہے اور خاص طور پر فیصلہ کن ضرب کھانے کے بعد چاہے وہ عسکری محاذ پر ہو یا عوامی میدان اور سڑکوں پر، ایک گہری اور معنی خیز ذلت کا سامنا کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں مختلف ممالک اس سے واضح طور پر دور ہونے لگے ہیں۔ اس وجہ سے اب اس نے اپنی ترکیبی جنگ کا رخ دو باتوں پر مرکوز کر دیا ہے: ایک عوام کی استقامت اور ثابت قدمی اور دوسرا ملک کے محاسباتی و فیصلہ ساز نظام میں خطا پیدا کرنا۔ اس مقصد کے لیے اس کا اصل ہتھیار شک، مایوسی، خوف، بدگمانی اور اختلاف کے بیج بونا ہے۔ لہذا ان سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سب لوگ ثابت قدمی، بصیرت، اتحاد و یکجہتی، باہمی اعتماد سے کام لے کر اور دشمن کی آواز میں آواز نہ ملا کر اس کے منحوس عزائم کو مٹی میں ملا دیں۔ اس سلسلے میں ان امور کی پشت پناہی میں حکام اور ذمہ داران کا کردار بہت اہم ہے۔ ہر وہ اقدام جو عوام کے دلوں میں بداعتمادی یا کمزوری پیدا کرے، درحقیقت اس ملک اور اس کے عوام کے دشمن کی مدد کے مترادف ہے۔

اس وقت، اسلامی انقلاب کے مظلوم لیکن مقتدر اور یقینی طور پر کامیاب رہنماؤں کے طور پر امام خمینئ کبیر اور شہید خامنہ‌ایؒ عزیز کے مکتب کو عملی طور پر دنیا بھر میں متعارف کرانے اور اسے حقیقت کا روپ دینے کا ایک نیا موقع حاصل ہو گيا ہے۔ یہ اہم ذمہ داری پوری قوم، بالخصوص نوجوانوں، اہل دانش، اہل فکر اور اہل فن کے کندھوں پر ہے کہ وہ اسی مکتب کی بنیاد پر، اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر اعتماد کرتے ہوئے، ہمارے آقا حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی عنایات کے سائے میں اور خالص اسلام کے راستے پر، یعنی اس نورانی راہ پر جسے صاحبان عصمت و ولایت کبریٰ علیہم السلام نے اپنے ڈھائی سو سالہ دور حیات میں متعین فرمایا، ایران عزیز کے روشن مستقبل کی تعمیر کریں۔

میں خداوند قادر سے دعا کرتا ہوں کہ اس مبعوث شدہ قوم کو حتمی فتح اور پیشرفت و عظمت کی بلند و پرشکوہ چوٹیوں تک پہنچائے، اور انقلاب کے دو اماموں کی ارواح مقدسہ اور اسلامی انقلاب کے شہداء خصوصاً دوسرے اور تیسرے مقدس دفاع کے شہداء کی پاکیزہ روحوں کو ان کے مولا حضرت امیرالمؤمنین علی علیؑ کے ساتھ محشور فرمائے۔ ہمارے آقا حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے مقدس اور نورانی قلب کو ایرانی قوم سے راضی فرمائے اور اس عزیز قوم اور اپنے فضل و کرم سے اس کے خدمت کاروں کو حضرت کی خصوصی دعاؤں اور شفاعت سے مستفیض کرے۔

والسّلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای

4 جون 2026