بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ

اے عظیم اور حیرت آفرین ملتِ ایران!

آپ پر سلام، درود اور بے حد شکریہ کہ آپ نے ایران کے شہید رہبرؒ کی تاریخی تشییع جنازے کے بے مثال اور بے سابقہ عوامی اجتماع میں اپنی عظیم، تاریخی اور بے نظیر حاضری کے ذریعے، اسلامی اور ایرانی تشخص کے مضبوط عزم اور اسلامی بیداری کی ایک نئی اور درخشاں مثال قائم کی، جو قدردانی، وفاداری، بصیرت اور غیر معمولی محبت کے اظہار میں نمایاں تھی۔ آپ نے امتِ اسلامی کے رہبر اور انقلاب کے شہید رہبر کے ساتھ اپنی وفاداری اور محبت کو عملی طور پر ثابت کر دیا۔
تہران، قم، مشہد اور دیگر شہروں اور دیہاتوں میں موجود کروڑوں افراد پر مشتمل اور کئی کئی کلومیٹر طویل اجتماع کے غم سے تپتے دل، اشک بار آنکھیں اور پختہ عزائم، ملتِ ایران کے دوستوں اور دنیا کے آزاد لوگوں کو داد و تحسین  کرنے پر مجبور کر دیا، اور ملتِ ایران کے متکبر دشمنوں کو حیرت، پریشانی، غصے اور خوف میں مبتلا کر دیا۔

اسی عظیم حماسے کے ساتھ ساتھ، شیطانِ بزرگ کی جانب سے ایران اور امریکہ کے صدور کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی بار بار خلاف ورزی نے ایک مرتبہ پھر سب پر یہ حقیقت واضح کر دی کہ امریکہ کے صدر کے دستخط کس قدر بے وُقعت اور ناقابلِ اعتبار ہیں اور یہ کہ زبردستی، بالادستی کی خواہش اور وحشیانہ طرزِ عمل، امریکی سوچ اور پالیسی کا لازمی حصہ ہیں۔ آج شیطانِ بزرگ نے ایک بار پھر اپنا حقیقی اور بے نقاب چہرہ دنیا کے سامنے ظاہر کر دیا ہے؛ تاکہ جرائم اور وعدہ خلافی کا یہ تلخ تجربہ، امریکہ کے جھوٹے، غیر منطقی، ناقابلِ اعتماد اور ناپاک ہونے پر ایک اور مضبوط دلیل بن جائے۔ اب جبکہ امریکی دشمن جنگ بھڑکانے، مزید بھاری قیمت چکانے اور مزید رسوائی مول لینے پر اصرار کررہا ہے، اسے جان لینا چاہیے کہ ایران کی عزیز ملت اور مقاومت کے محاذ کے پاس اس (امریکہ) کے لیے ایسے سبق موجود ہیں جنہیں وہ کبھی فراموش نہیں کر سکے گا؛ جن کی چند جھلکیاں ان دنوں اسلام کے مجاہدین کی بہادری اور جنوبی خطے کے غیور اور دلیر عوام نے عملی طور پر دکھا دی ہیں۔

ضروری ہے کہ آپ، ایران کے وفادار اور سربلند عوام، سے یہ عرض کیا جائے کہ اس نازک مرحلے میں سب سے بنیادی اور اہم امور میں سے ایک یہ ہے کہ عوام اور ذمہ داران ہر سطح پر اور تمام میدانوں میں وحدت اور مقدس یکجہتی پر مضبوطی سے قائم رہیں، تاکہ اسلامی انقلاب کے بلند مقاصد کو عملی جامہ پہنایا جا سکے اور عزیز ایران کی عزت اور استقلال، خصوصاً امریکی مجرم اور مکار دشمن کے مقابلے میں، محفوظ رکھا جا سکے، جیسا کہ اس سے پہلے بارہا اور مؤکد انداز میں یاد دہانی کرائی جا چکی ہے۔ اتحاد کی حفاظت کرنا، تفرقہ اور باہمی نزاع سے بچنا، سیاسی اختلافات کو ہوا نہ دینا، اور سماجی فرق کو نمایاں کرنے سے گریز کرنا، سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ البتہ ملک کے اتحاد اور یکجہتی کو برقرار رکھنے میں ذمہ داران، انقلاب، امام اور شہید رہبر سے مخلص اور دلی وابستگی رکھنے والے افراد کا کردار زیادہ اہم اور زیادہ حساس ہے۔

لہٰذا عزیز ملت کو چاہیے کہ وہ تینوں ریاستی اداروں کے مخلص ذمہ داران پر اپنا اعتماد برقرار رکھے، جن کی قوم کی فلاح و خوشحالی کے لیے کوششیں واضح طور پر نظر آتی ہیں اور ایرانِ اسلامی کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بدستور ہوشیار اور میدانِ عمل میں سرگرم رہے۔ ممکن ہے کچھ لوگ مکمل اخلاص اور خیرخواہی کے جذبے کے ساتھ بعض ذمہ داران کی کارکردگی پر تنقید کریں۔ میرے نزدیک، اگرچہ نظام کے بارے میں ان کی یہ فکر مندی اور احساسِ ذمہ داری، خود ان کی ذات کی طرح ایک قیمتی سرمایہ ہے اور بذاتِ خود ایک مطلوب امر بھی ہے، تاہم ان معزز افراد، جن میں سے بعض بصیرت کے علمبرداروں میں شمار ہوتے ہیں، انہیں چاہیے کہ پوری احتیاط سے کام لیں، تاکہ ان کا یہ طرزِ عمل، سب سے پہلے  کسی بے گناہ پر ظلم کا سبب نہ بنے، کیونکہ ایسا ظلم خود اللہ تعالیٰ کی برکتوں اور عنایتوں سے محرومی کا سبب بنتا ہے اور دوسرا یہ کہ کہیں یہ رویہ معاشرتی اتحاد اور قومی یکجہتی کو نقصان نہ پہنچائے کیونکہ اگر ان باتوں کا خیال رکھا جائے تو تنقید کرنا امور کی بہتری، ترقی اور نشوونما کا ذریعہ بنے گی۔ دشمن کو ہماری طرف سے کسی بھی قسم کی کمزوری، خصوصاً اس طرح (یعنی تفرقہ) کی کمزوری، کا کوئی اشارہ نہیں ملنا چاہیے کیونکہ اگر ہم ان تمام احتیاطوں کی مکمل پابندی کریں گے تو دشمن حتماً شکست کھا کر پسپا ہونے پر مجبور ہو جائے گا۔

میں ایک بار پھر عزیز عوام کے ہر ہر فرد کا جو خود امت کے شہید باپ (شہید رہبرؒ) کے غم میں سوگوار ہیں اور جنہوں نے مشکلات، بعض پابندیوں اور نامساعد حالات کے باوجود، ایران کے شہید رہنما کی عظیم تشییع جنازہ کے تاریخی موقع پر،
ایک تاریخی حماسہ رقم کیا، میں ان سب کا دلی قدر دانی کرتا ہوں۔

اسی طرح میں مراجعِ عظامِ تقلید، علماء، دانشوروں، اہلِ فکر، ممتاز شخصیات، اور ثقافتی، سماجی اور سیاسی میدانوں میں سرگرم افراد کا نیز ملکی اور عسکری اداروں کی خدمات اور کوششوں پر بھی اور اسی طرح محاذِ مقاومت کے سربلند قائدین و نمائندوں اور اسلامی تحریکوں کے معزز نمائندوں کی شرکت پر بھی ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

امید ہے کہ اس تاریخی حماسے میں جن لوگوں نے کسی بھی صورت میں شرکت کی، ساتھ دیا اور ہمدردی و یکجہتی کا اظہار کیا، وہ سب ہمارے آقا عجّل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی خصوصی عنایت اور دعا سے بہرہ مند ہوں۔

سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای
17 جولائی 2026