
بسمالله الرّحمن الرّحیم
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِآيَاتِنَا أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ
اور بتحقیق ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا (اور حکم دیا) کہ اپنی قوم کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاؤ اور انہیں ایامِ خدا یاد دلاؤ، ہر صبر و شکر کرنے والے کے لیے یقینا ان میں نشانیاں ہیں۔(سورہ ابراہیم، آیت 5)
اکتوبر کے مہینے کے ابتدائی ایام، (ہمیں) ایام اللہ اور پہلی مسلط کردہ جنگ (دفاع مقدس) میں ملتِ ایران کے آٹھ سالہ شجاعانہ دفاع کے عظیم اور یادگار حادثے کی یاد دلاتے ہیں۔ اُن ایام میں ایران کی سرزمین پر انقلاب کے سورج کی گرم کرنیں قومی یکجہتی اور انقلاب اسلامی کے مکتب اور نظریے سے وفاداری کا ایک خوشگوار احساس پھیلا رہی تھیں، جس کے اثر سے (دشمن کی) تسلط گری اور قدیم و جدید استعمار کی برف پگھل رہی تھی۔ اُن ایام میں ایران کے بعض لوگ بیس سے کچھ زائد سالوں پہلے کے استعمار کاروں کی بدخواہی، تیل کی صنعت کو قومی بنانے سے متعلق واقعات اور امریکی بغاوت کی یادیں اپنے ذہن میں رکھے ہوئے تھے۔ بعض دوسرے لوگوں نے اس کے بارے میں خبریں سنی تھیں، اور ان میں سے بہت سے لوگ اس حقیقت کو بخوبی محسوس کر چکے تھے کہ ملک کے امور پر بیگانہ تسلط نے ہمارے ملک کے ساتھ کیا کچھ کیا تھا لیکن اس سے پہلے کے ایام بہت تاریک تھے؛ ایسے ایام کہ متکبر حکومتوں کے سفیر، ہدایات پہنچاتے تھے کہ مملکت (ایران) کے شاہ کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا اور وہ بھی خواہ رغبت سے یا بد دلی سے، انہیں (ہدایات) پر عمل کرتا تھا، یہاں تک کہ حضرت امام خمینیؒ کی قیادت میں ملتِ ایران کے عظیم انقلاب نے اس کی بساط کو لپیٹ دیا۔ اس انقلاب کے نتیجے میں وہ تاریک ایام، جمہوری اسلامی ایران کے قیام کے پُرنور ایام پر منتج ہوئے۔ یہ امر ان تسلط پسند قوتوں پر بہت سخت گزرا، جنہوں نے اس سرزمین کی دولت پر لالچ کی نگاہیں جما رکھی تھیں اور انہیں اپنے قبضے میں لینے کے لیے برسوں اس کے باشندوں کے ساتھ طرح طرح کی زیادتیاں روا رکھی تھیں۔ لہٰذا اس کے بعد انہوں نے اپنی تمام تر فکر اور کوششیں اس بات پر صرف کر دیں کہ انقلابی ملت کے طوفانی دریا کے بہاؤ کو سابقہ سمت کی طرف واپس موڑ دیں، اور پہلی مسلط کردہ جنگ، اسلامی جمہوریہ کی مبارک حیات کی پہلی دہائی میں ان کی سب سے اہم کارروائی تھی۔
اس جنگ کی آگ کے اندر سے، جو عوام کی دشمن بعث پارٹی کے ہاتھوں چند دن کی جنگ اور آسانی سے فتح حاصل کرنے کے وہم کے ساتھ بھڑکائی گئی تھی، اسلامی نظام پہلے سے زیادہ مضبوط اور طاقتور ہو کر بلند پرواز پرندے کی طرح اٹھ کھڑا ہوا؛ پہلے سے زیادہ بلند آواز اور بلند پرواز کے ساتھ بعد کے زمانے میں دشمن کی جانب سے پیدا کیے گئے حالات میں بھی اس نظام کی یہی مستقل خصوصیت نمایاں رہی۔
وہ ایام جب دشمن نے اس ملت پر اپنے نوکروں کو مسلط کر رکھا تھا اور استعمار کی ایک نئی شکل نافذ کر رہا تھا، انقلاب (اسلامی) کی برکت اور مسلط کردہ جنگ کے میدان میں اسلام اور جہاد کا پرچم بلند کرنے کی بدولت، فخر اور عزت والے دنوں میں بدل گئے؛ ایسے دن جو آج بھی، ان کے اختتام کو 38 سال گزر جانے کے بعد، ان کے ایک ایک واقعے اور ان میں زندہ رہ جانے والے (ہر فرد) کی سچی روایات کو دیکھنے سے، ایسی مثالی شخصیات کی صورت میں سامنے آتے ہیں جو عبادت، شجاعت، مزاحمت، اخلاق اور انسانیت کا سبق دیتی ہیں اور ہمارے ملک کی تاریخ کی پیشانی پر روشن ستاروں کی طرح جگمگا رہی ہیں۔
وہ ایسے ایام تھے جب ہمارے ملک پر ظالم طاقتوں کے پیروکاروں نے حملے شروع کیے تھے۔ اُس وقت ہمارے ملک کو ظالم حکومت سے صرف خالی ہاتھ ورثے میں ملے تھے، یعنی ہمارے پاس اپنے دفاع کے لیے کچھ خاص نہیں تھا۔ لیکن حق کو قائم کرنے اور اللہ کی مدد کی برکت سے آج وہ وقت آ گیا ہے کہ خود حملہ آور ظالم طاقتیں — نہ کہ اُن کے پیروکار — اسلام کے جنگجوؤں کے حملوں سے بچنے کے لیے پناہ ڈھونڈ رہی ہیں اور جنگ ختم کرنے کی التجا کر رہی ہیں۔
ایسے ایام جن کی طرف وہ ہمارے ملک کو واپس لے جانا چاہتے ہیں جو پسماندگی، ذلت و خواری، وابستگی اور عالمِ اسلام میں ایران کی بدنامی سے بھرے ہوئے ایام تھے اور ہم جن ایام میں اب زندگی گزار رہے ہیں، وہ ترقی، عزّت، خودمختاری اور عالمِ اسلام بلکہ پوری دنیا میں بلند ترین اعتبار و وقار سے بھرپور ہیں۔ آج بعض لوگ ہمیں دنیا کی چوتھی سُپر پاور سمجھتے ہیں۔ البتہ وہ یہ بات دنیاوی حساب کتاب اور مادی پیمانوں کی بنیاد پر کہتے ہیں لیکن الٰہی حساب کتاب کے مطابق، جو ملک خود کو عترتِ طاہرہ صلواتُ اللہ و سلامُہ علیہم اجمعین سے وابستہ سمجھتا ہے، اور جس کے بیشتر لوگ ان عظیم ہستیوں سے دلی وابستگی رکھتے ہیں، اور حق کے قیام کے لیے کسی خوف کا شکار نہیں ہوتے، اسے دنیا کی اوّلین طاقت قرار دیا جاتا ہے۔
ان ایام میں ایران کے جنوب میں واقع دونوں سمندر، دشمن کی افواج کا میدان بنے ہوئے تھے لیکن آج کے ایام میں وہ بحیرۂ عرب سے آگے نہیں بڑھتے، کیونکہ شجاع مجاہدین اور آبنائے ہرمز کے محافظوں سے انہیں دردناک مار پڑی ہیں اور جب بھی انہوں نے یہ (آگے بڑھنے کا) خطرہ مول لیا، خود کو ہی نقصان پہنچایا اور وہ دن دور نہیں جب بحیرۂ عرب بھی انہیں اپنے دامن سے نکال باہر کرے گا۔
وہ ایسے ایام تھے جب سلطہ گر طاقتوں نے نفسیاتی حربوں اور خوف و ہراس کی فضا پیدا کرکے دارالحکومت (تہران) کی سڑکوں کو سنسان کر دیا تھا اور آزادی پسند قوم کے خلاف ایک بغاوت برپا کی، اور اس کے بعد 25 سال تک اس ملک کے وسائل کو لوٹتے رہے لیکن دور حاضر میں 7 مہینے سے ہمارے ہم وطن پورے ملک کے میدانوں اور سڑکوں کو اپنی ذمہ دارانہ اور پُرجوش موجودگی سے زینت بخش رہے ہیں تاکہ اسلامی مجاہدین کے حوصلے بلند رہیں اور دشمن خوف و ہراس میں مبتلا ہو جائے۔ اسی طرح تین کروڑ سے زائد ایرانیوں نے اپنی جان نثاری کا اعلان کیا، اور جب ان کی دوبارہ حاضری کے اعلان کے مطابق تنظیم سازی کی ضرورت پیش آئی، تو صرف ابتدائی سو منٹ کے اندر ہی پانچ لاکھ سے زائد افراد نے مطلوبہ تعداد پوری کر دی۔ اس وقت پورے اسلامی ایران میں، جہاں مختلف قوموں سے تعلق رکھنے والے ایرانیوں کی موجودگی اسے زینت بخش رہی ہے، مختلف نوعیت کی آمادگی، بالخصوص مسلحانہ آمادگی کا اظہار ہو رہا ہے، تاکہ ایسا میدانِ کارزار سجایا جائے جو انہیں نام اور ان کے دشمن کو ذلیل و خوار کرکے رکھ دے۔
وہ ایسے ایام تھے جب اس سرزمین کے لوگوں کی بہادری مردوں ہی سے پہچانی جاتی تھی لیکن آج ہم ایسے ایام میں ہیں کہ بعض میدانوں میں دلیرانہ شرکت کے حوالے سے خواتین مردوں سے بھی آگے نکل گئی ہیں۔
وہ ایسے ایام تھے جب دشمن مسلسل کوشش کر رہا تھا کہ نظام کی سماجی پشت پناہی کو کمزور سے کمزور تر کر دے،
لیکن آج ایسے ایام ہیں کہ معاشرے کے مختلف طبقات، واضح اختلافات کے باوجود، اپنے برحق مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں، اور ان میں خیر و برکت سے بھری آبنائے ہرمز کی حفاظت بھی شامل ہے۔
یہ ماضی کے ایام اور آج کے ایام کے درمیان مقایسہ مزید بھی بیان اور واضح کیا جا سکتا ہے، لیکن مختصر یہ کہ میں ایران کی عزیز عوام کے خادم کی حیثیت سے اعلان کرتا ہوں کہ ماضی کے وہ ایام، جن کی طرف ہمارا دشمن واپس لوٹنے کی آرزو رکھتا ہے، گزر چکے ہیں اور اب کبھی دوبارہ نہیں آئیں گے اور افسوس اور غم کے ساتھ یہ بھی یاد دلانا ضروری ہے کہ آج کے ان ایام میں خمینیِ کبیر اور خامنہایِ عظیمُ الشأن، شہید، اعلیٰ اللہ مقامہما الشریف کی بہت کمی محسوس ہوتی ہے، جن کی قیادت کا آج ملک کی عزّت پر بہت احسان ہے لیکن ان کی پیروی کرنے والوں کے لیے ان کے عمل اور نورانی و رہنمائی کرنے والے اقوال کی جو قیمتی میراث باقی ہے، اس کی برکت سے آنے والے ایام آج کے ایام سے کہیں زیادہ شاندار ہوں گے؛ کیونکہ وہ بلند پرواز پرندہ جو پہلی مسلط کردہ جنگ کی آتش زار سے ابھرا تھا، اب دشمن کے دباؤ، بالخصوص حالیہ دو مسلط کردہ جنگوں کے نتیجے میں اتنا عظیم ہو چکا ہے کہ اس کی پرواز کا سایہ دشمن کی سرزمینوں تک بھی پہنچ گیا ہے۔
اس موقع پر یہ بات بالکل بجا ہے کہ عرب دنیا کے عظیم مجاہد اور مزاحمت کے محاذ کی عظیم نشانی، شہیدِ عالی قدر جناب سید حسن نصراللہ قدّس اللہ نفسہ الزکیہ کی شہادت کی دوسری برسی کے موقع پر ان کی یاد کو تازہ کیا جائے۔ وہ ایسی شخصیت تھے جو اپنی قوم اور اپنے مکتب کے مخلص خیرخواہ تھے۔ ان کے مخلصانہ اور دلنشیں خطبات اور ان کے شجاعانہ اقدامات ان کی قوم بلکہ دنیا بھر کے آزاد لوگوں کے دلوں کو مضبوط کرتے تھے۔ ایسی شخصیت جس نے لبنان جیسے ایک چھوٹے سے ملک کا نام بلند کر دیا، جو برسوں سے بعض طاقتوں کے زیرِ اثر علاقہ بنا ہوا تھا۔ ایسی شخصیت جن کے قدم قدم پر نصرت اور فتح ان کا ساتھ دیتی رہی۔ ایسی شخصیت جن کی عظمت کے مقابلے میں، بلاشبہ بلادِ شام کی پوری تاریخ میں، انبیاءؑ اور ان کے اوصیاءؑ کے بعد، آج تک اس قدیم خطّے میں کوئی مرد سر بلند نہیں ہوا اور اب ان کا باعظمت پرچم جناب شیخ نعیم قاسم حَفِظَہُ اللہُ کے ہاتھوں میں ہے، جو بہادری کے ساتھ حزب اللہ کی مضبوط اور عاشورائی صفوں کے آگے آگے ان کے راستے کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
لبنان کے یہ موجودہ ایام، تاریخ کی نگاہ میں، بلکہ ابھی سے، ان (شہید نصر اللہؒ) کے اور مزاحمت کے تمام مجاہدین کے لیے نمایاں اور باعثِ فخر ایام ہیں، اور ان لوگوں کے لیے ذلت آمیز اور بالآخر رسوائی کا باعث بننے والے ایام ہیں، جنہوں نے صیہونی دشمن کے مقابلے میں اپنے حاکموں اور بدخواہوں کے جھوٹے وعدوں سے امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔ وہ لوگ جو شہیدِ مقاومت سید [حسن نصراللہ] اور سید ہاشم صفی الدین اور موجودہ مزاحمت کےمجاہدین کے برعکس ہیں — جو (مزاحمت کےمجاہدین) وقت کے تسلسل میں روشن ستاروں کی طرح نور بکھیرتے رہیں گے اور سرگردانی میں بھٹکے ہوئے راہ تلاش کرنے والوں کی رہنمائی کریں گے — (دشمن سے وابستہ افراد) بہت جلد اور تاریخ کے صفحات کے پہلے ہی ورق گردانی میں دفن اور فراموش ہو جائیں گے، اور جب بھی آئندہ ان کا ذکر آئے گا تو برائی، بے تدبیری اور شاید خیانت کی یاد دہانی بنیں گے۔
آخر میں امیدوار ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے مسلسل فضل اور ہمارے آقا عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف و ارواحنا فداہ کی خاص دعا کے ساتھ، ایران کی قوم اور مقاومت کے تمام ساتھیوں کو کامیابی، فتح اور عزت نصیب ہو، اور ان کے دشمنوں کو شکست و ذلت ہی ملے؛ اللہ کے احسان اور کرم سے۔
ولی امر مسلمین جہان آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای
28 ستمبر 2026
