
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰہِ وَالَّذِینَ مَعَہُ اَشِدَّاءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَاءُ بَیْنَھُمْ (محمدؐاللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں مہربان ہیں… (سورۂ فتح، آيت 29)
ذاتِ مبارک، نیّرِ اعظم، اشرفُ الخلائق، سراجِ منیر، اللہ کے برگزیدہ بندے، شہرِ علم، حضرت رحمت للعالمین، رسولِ مکرمِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے پاک و پاکیزہ فرزند، حجتِ بالغۂ الٰہی، حضرت امام جعفر صادق صلوات اللہ وسلامہ علیہ کی ولادتِ باسعادت کے ایام کی مناسبت سے ایران کی باشرف قوم اور عظیم امتِ مسلمہ کی خدمت میں مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
جب سے حضرت ختمیِ مرتبتؐ کے وجودِ مبارک کا آفتابِ عالم تاب مکۂ مکرمہ میں طلوع ہوا، انسانی سعادت کے افق کو، جو حضرتِ حق جل جلالہ کی کامل بندگی اور اطاعت کا مرہونِ منت ہے، ایک نئی روشنی حاصل ہوگئی۔ انبیائے کرامؑ، اللہ کے فرشتے اور پاکیزہ ہستیوں کی ارواح خوشی سے سرشار ہوگئیں، جبکہ انسانوں اور جنّات میں سے شیاطین غصے، حسرت اور غم سے انگلیاں چبانے لگے کیونکہ خداوندِ عالم کی تمام بے شمار مخلوقات میں سب سے برتر ہستی اس دنیا میں تشریف لا رہی تھی اور بہت جلد وہ منصبِ نبوت و خاتمیت سے سرفراز ہوکر، قرآنِ عظیم اپنے ہاتھ میں لیے اور انسان کی ہر پہلو سے رہنمائی کی ذمہ داری کے ساتھ، انسانیت کے عظیم قافلے کو اللہ کی بندگی اور اس کی طرف کمال کے سفر پر گامزن کرنے والے تھے۔ رسولِ اکرمؐ اور آپؐ کے معصوم اوصیاءؑ کی پوری زندگی ہدایت و بندگی، معرفت و محبت، عقیدے اور جہاد کا درس ہے۔ ان کی زندگی انفرادی و اجتماعی حسنِ اخلاق کا درس، امانت و صداقت کا درس، عزت و کرامت کا درس، علم و عمل کا درس، رحمت و قاطعیت کا درس، عدل و انصاف کا درس اور اتحاد و اخوت کا درس ہے۔ ان درسوں کو جتنا بہتر انداز میں سیکھا جائے اور ان پر عمل کیا جائے، بنی نوعِ انسان کے لیے سعادت و خوش بختی کی بلندیوں تک پہنچنا اتنا ہی آسان ہوجاتا ہے۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ پیغمبرِ رحمتؐ کی روحِ مطہر اور اسی طرح ان کے پاکیزہ اوصیاءؑ اور حججِ طاہرینؑ کی پاکیزہ ارواح صلوات اللہ وسلامہ علیہ و علیہم اجمعین ہمیشہ مسلمانوں اور اسلامی معاشرے کے حالات پر نگاہ رکھتی ہیں، ان کی رہنمائی کرتی ہیں اور ان پر مہربان ہیں۔ جب اس مہربان اور عظیم باپ کے (ہم جیسے) فرزندوں سے کوئی خطا سرزد ہوتی ہے تو وہ رنجیدہ خاطر ہوتے ہیں، اور جب مسلمان ان کی تعلیمات اور احکامات پر عمل کرتے ہیں تو ان کا قلبِ مبارک مسرور ہوتا ہے۔آج اسلام اور اہلِ اسلام، صدرِ اول سے لے کر اب تک کے سخت اور پُرآشوب ادوار سے گزرنے اور متعدد نشیب و فراز طے کرنے کے بعد ایک فیصلہ کن مرحلے میں پہنچ چکے ہیں۔ آج مسلمان ایک نہایت مؤثر اور تاریخ ساز کردار ادا کرسکتے ہیں۔ آج وہ دن ہے جب باطل پر حق کے اور کفر پر اسلام کے حتمی غلبے کا افق، گزشتہ تمام ادوار کے مقابلے میں کہیں زیادہ واضح طور پر حقیقت کے قریب پہنچ چکا ہے۔اس اہم مقصد کے حصول کی پہلی شرط مسلمانوں کا اتحاد ہے۔ عالمی کفر کے مقابلے میں مسلمانوں کا اتحاد کوئی سطحی اور عارضی مسئلہ نہیں بلکہ ایک قرآنی حکمت عملی اور خالص محمدی اسلام صلوات اللہ وسلامہ علیہ وآلہ کی بنیادی تعلیمات میں سے ایک ہے۔ اتحاد سے مراد یہ ہے کہ اسلامی معاشروں کی عمومی سطح پر سب کے درمیان مشترکہ نکات کو محور اور اصل قرار دیا جائے۔ البتہ کوشش کی جاتی ہے کہ ٹھوس دلائل کی بنیاد پر اخوت و تعاون کے تمام امور کو مدنظر رکھتے ہوئے اور جیسا کہ قرآنی تعلیمات سے پتہ چلتا ہے، پورے امن و اخلاص کے ساتھ اختلافی باتوں کو مشترکہ نکات میں تبدیل کر دیا جائے۔
جو بات یقینی ہے وہ یہ ہے کہ اسلامی معاشروں میں تمام مسلمان عالمی کفر کے مقابلے میں قرآنی اصول اَشِدَّاءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَاءُ بَیْنَھُمْ (کافروں پر سخت اور آپس میں مہربان ہیں) کو اپنی فکر، گفتار اور عمل کا محور قرار دیں، اسلامی اتحاد اسی طرح حاصل ہوگا۔ جب بھی اس آسمانی پیغام کے دونوں حصوں میں سے کوئی بھی حصہ مسلمانوں کے عملی مرحلے سے دور ہو جائے گا وہ اس عزت و سربلندی کے مقام سے بھی دور ہوجائیں گے جو اسلامی معاشرے میں انھیں بجا طور پر حاصل ہوا تھا اور یہ ایک اٹل قاعدہ ہے۔
یہ قاعدہ اسلامی انقلاب کے بنیادی اصولوں اور پیغامات میں سے ایک ہے۔ پہلی مرتبہ ہفتۂ وحدت منانے کا زمانہ فروری 1978 اور ظالمانہ پہلوی نظام کے خلاف جدوجہد کے دور سے تعلق رکھتا ہے؛ جب رہبر عظیم و شہید اعلیٰ اللہ مقامہ نے ایرانشہر میں اپنی جلاوطنی کے دوران یہ سوچ پیش کی اور شیعہ و سنی دونوں نے اس کا خیر مقدم کیا۔ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے فوراً بعد بانئ انقلاب اسلامی امام خمینی قدس سرہ کی تدبیر سے “ہفتۂ وحدت” کو باضابطہ رسمی حیثیت حاصل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مسلم اقوام کے درمیان اتحاد کا ایک کامیاب نمونہ ایرانی قوم میں پایا جاتا ہے اور دشمنوں کی سازشیں اسے نقصان پہنچانے میں کچھ خاص کامیاب نہیں رہی ہیں۔
تاہم یقینی طور پر بدخواہ ہمیشہ اس عظیم نعمت کی گھات میں رہتے ہیں۔ جو چیز انھیں پرامید بناتی ہے وہ اختلافات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا ہے۔ عقیدتی اور مذہبی اختلافات اگرچہ دشمن اسلام کے اہداف کا ایک اہم پہلو ہیں اور وہ ان سے فائدہ اٹھانے کے سلسلے میں بہت پرامید بھی ہے لیکن وہ اسی پر اکتفا نہیں کرے گا۔ بلکہ کوشش کرے گا کہ نسلی، ثقافتی، سماجی، اقتصادی، سیاسی اور جغرافیائی نوعیت کے تمام اختلافات کو ایران اور کسی بھی دوسرے اسلامی ملک میں مسلمان عوام کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کا بہانہ بنا دے تاکہ اس کے ذریعے امت اسلام کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے اور اس کی طاقت کی بربادی کا مشاہدہ کرے اور مناسب موقع پر ان پر اپنا تسلط قائم کر لے۔ ان امور کے سلسلے میں قرآن مجید کا حکم اس آیت شریفہ میں بیان ہوا ہے: “وَ لا تَنازَعوا فَتَفْشَلوا و تَذْھَبَ ریحُکُم” (اور آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ کمزور پڑ جاؤگے اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ سورۂ، انفال، آيت 46) بنابراین جو بھی، جس پوزیشن پر بھی مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے والا کوئی کام کرے اور مسلم معاشرے میں اختلاف پیدا کرے، وہ جانتے ہوئے یا نا جانتے ہوئے اور ارادتاً یا غیر ارادی طور پر اسلام کے دشمنوں کے اہداف کو پورا کرے گا اور آج کے (جدید) دور میں کیا کوئی شخص ایسے عمل کو اپنی جہالت اور غفلت کا نتیجہ قرار دے سکتا ہے؟ جبکہ آج دنیا کے طاغوت، خصوصاً مجرم امریکہ، اپنے استعماری مقاصد، ظالمانہ اور تسلط پسندانہ منصوبوں کے بدصورت چہرے سے فریب کے نقاب اتار چکے ہیں، دھوکے کے مخملی دستانے بھی اتار پھینکے ہیں اور اپنے خون آلود پنجے پوری دنیا کو دکھا چکے ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ مسلمان غور و فکر کریں اور واقعات کو زیادہ گہری نظروں سے دیکھیں۔ اگر مسلمان ایک متحدہ قوت ہوتے جو اپنی مٹھی کو مضبوطی سے بھینچتی تو کیا فلسطینی قوم اس طرح بے یار و مددگار ہوکر غاصبوں کے ظلم و جرائم کا نشانہ بنتی؟ اور اگر خلیج فارس کے ساحلی ممالک کی اقوام اور حکومتیں اسلام کے پرچم تلے اپنا اتحاد قائم کر لیتیں تو کیا یہ بے شناخت اور پست فطرت غنڈے ہزاروں کلومیٹر دور سے ان کی سرزمینوں اور اثاثوں پر لالچ کی نظر ڈالنے کی ہمت کر سکتے تھے؟
اسلامی ممالک کے حکمرانوں خاص طور پر مغربی ایشیا کے خطے اور خلیج فارس کے ساحلی ممالک کے حکمرانوں کو میری پر زور اور بار بار یہی نصیحت ہے کہ اپنے حقیقی دشمن کو پہچانیے، اس کی سازش کو سمجھ کر اس کا مقابلہ کیجیے۔ امت مسلمہ کے مسائل کا علاج اتحاد اور نیکی و بھلائی کی راہ میں دوستی اور تعاون ہے۔ امریکا کے مجرم حکمراں اور جعلی صیہونی حکومت اس اتحاد اور دوستی کے کٹر دشمن ہیں۔ وہ صرف جمہوری اسلامی ایران، ایرانی قوم اور عظیم اسلامی مزاحمتی محاذ کے دشمن نہیں ہیں بلکہ پوری امت مسلمہ اور بالخصوص مغربی ایشیا اور شمالی افریقا کی اقوام کے دشمن ہیں اور اس معاملے میں ان ممالک کے حکمران بھی، جن میں سے بہت سے ان کے معاونین شمار ہوتے ہیں، اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں، جیسا کہ سامراجی طاقتوں کے سربراہوں کی جانب سے بعض اسلامی ممالک کے سربراہوں کی کھلم کھلا توہین اور ان کے بارے میں نازیبا الفاظ کا استعمال ہمارے اور آپ کے قریبی حافظے میں موجود ہے۔
اختلاف سے اجتناب اور اتحاد کا اہم سبق، دشمن اور دوست کا سامنا کرنے کے بارے میں مکتب اسلام کا پہلا سبق ہے، اس کا دوسرا سبق کفر کے مقابلے میں ایک دوسرے کا بچاؤ اور تیسرا سبق مسلمانوں کی مادی و معنوی زندگی کے مختلف امور، یعنی دولت، سلامتی، علم اور پیشرفت کے شعبوں میں مختلف نوعیت کے تعاون اور باہمی قوت میں اضافہ کرنا ہے اور اس راہ کی اصل منزل نئے اسلامی تمدن تک رسائی ہوگی۔ بنابراین مسلمانوں کے درمیان اتحاد، عزیز اور غالب اسلامی تمدن کے حصول کا اصل سنگ بنیاد ہے۔ یہ فکری اور نظریاتی مجموعہ، جس میں عالم اسلام کے بارے میں ہماری آرزو پوشیدہ ہے، ایران عزیز میں قابل قبول حد تک عملی شکل اختیار کرچکا ہے اور قوم کے تمام افراد کو اس خادم کی ایک بار پھر یہی نصیحت ہے کہ ہرگز اپنے درمیان کسی بھی اختلاف کو جنم لینے کی اجازت نہ دیں۔
آخر میں مجھے امید ہے کہ رسول اکرم اور ان کی عترت طاہرہ صلوات اللہ و سلامہ علیہ و علیہم کی شفاعت سے اللہ کی رحمت و برکت کا سایہ اسلامی معاشروں کو اپنی چھاؤں میں لے گا اور مسلمان، اللہ کے فرامین پر عمل کے سائے میں روز بروز زیادہ سے زیادہ ترقی و پیشرفت کی راہ طے کریں گے۔
والسلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ
سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای
30 اگست 2026
