
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ہم سرزمین مظلوم عراق کے مراجع عظام، علمائے کرام، حوزہ ہائے علمیہ اور یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور فضلاء، گرانقدر دانشوروں، غیر معمولی صلاحیت والے افراد، قبائلی عمائدین و شیوخ، مختلف برادریوں کے سربراہان، نیز عظیم اور بامحبت عوام اور غیور اور باشرف جوانوں کی خدمت میں سلام، نیک تمنائیں، تعظیم اور بھرپور جذبہ قدردانی پیش کرتے ہیں۔
عراق کی مؤمن عوام نے، جو مقدس مقامات میں اہلبیت پیغمبر صلوات اللہ وسلامہ علیہم اجمعین کی ہمسائیگی اور میزبانی جیسی عظیم نعمت سے بہرہ مند ہیں، اپنی درخشاں تہذیبی روایت، نجف اشرف کے قدیم اور نورانی اعلیٰ دینی و علمی مرکز کی معنوی اور ہدایت بخش سرپرستی اور مزاحمتی محاذ میں اپنے مجاہدانہ کردار کے ساتھ، عظیم الشان رہبر شہید اعلیٰ اللہ مقامہ الشریف کے استقبال میں ملت ایران کی طرح ایک عظیم، بامعنی اور درد و الم سے لبریز جذبے سے بھرپور کارنامہ رقم کیا۔
عراق اس دن سے، جب ہمارے مولا امیرالمؤمنین علیہ السلام کے مبارک قدم اس سرزمین پر پڑے، ایک مبارک سرزمین بن گیا اور بہت جلد وہاں کے لوگوں نے بڑے فخر کے ساتھ آپؑ اور ان کی پاکیزہ آل علیہم الصلوۃ والسلام کی محبت اور ولایت کا طوق اپنے گلے میں ڈال لیا۔ جابروں اور ظالم حکمرانوں کے اقتدار کا دور بھی اس سرزمین سے ولایت اور اہل بیت اطہار علیہم السلام کی محبت کے اس خالص جوہر کو ان لوگوں کے دلوں سے کبھی باہر نہ نکال سکا۔
اسی لیے بعثی حکومت کے خاتمے کے بعد اربعین کی عظیم پیدل زیارت کا آغاز ہوا اور چونکہ یہ زیارت مؤمن عوام کے دلوں کی گہرائیوں سے نکلی تھی، اس لیے روز بروز وسیع ہوتی چلی گئی اور یہی وجہ تھی کہ جب ان لوگوں نے دیکھا کہ امیرالمؤمنینؑ اور سیدالشہداءؑ کے مظلوم و شہید فرزند، مزارات مقدّسہ سے برسوں کی ظاہری دوری کے بعد اس بار امام حسینؑ، ان کی والدہ (حضرت زہراؑ) اور ان کے بھائی (امام حسنؑ) کی مانند (زخمی اور شہید جسم کے ساتھ) نورانی مزارات کا طواف کرنے آئے ہیں، تو انہوں (اہل عراق) نے پورے وجود کے ساتھ ان کی آمد کا خیر مقدم کیا۔
دوسری جانب، مزاحمتی محاذ کے علمبردار کی اس بے مثال اور کروڑوں افراد پر مشتمل تشییع جنازہ نے عراق اور ایران کی دو قوموں کے درمیان یکجہتی، اخوت اور ہم آہنگی کی مکمل تصویر پیش کی۔ بلاشبہ سامراجی طاقتوں کے سرغناؤں نے خوف زدہ دلوں کے ساتھ عراق میں اس عظیم اجتماع کے شاندار مناظر دیکھے اور یہ بھی دیکھا کہ دونوں قوموں کے تعلقات کو خراب کرنے کے لیے ان کی بھاری سرمایہ کاری کس طرح بے سود اور بے اثر ثابت ہوئی۔ ایران اور عراق، دونوں ملکوں میں مجاہدِ شہید امام (اعلیٰ اللہ مقامہ الشریف) کی تشییع کے موقع پر کروڑوں انسانوں کی یہ عظیم الشان شرکت، بیداری کے ایک نئے باب کا آغاز بن گئی اور استکباری طاقتوں کی پہلے سے طے شدہ معادلات کو بدلنے میں ایک مؤثر کردار ادا کر گئی۔ اب شیطانِ بزرگ، جرائم پیشہ امریکہ یہ سمجھ چکا ہے کہ خطّے پر اس کی بے روک ٹوک اور تسلط پسندانہ موجودگی کا جاری رہنا محض ایک خام خیال ہے۔
بہت جلد ایک بار پھر عراق کی باوقار قوم اور اس کے گرم جوش، محبت کرنے والے قبائل اور مختلف برادریوں کی آغوش، اربعین کی زیارت کے مشتاق زائرین کے لیے کھل جائے گی، جن میں وہ بڑی تعداد بھی شامل ہوگی جو آقائے شہید ایران کی نیابت میں زیارت کرے گی۔ یہ سب اس شاندار تشییع جنازہ اور اس عظیم المرتبت شخصیت کی یاد کے ساتھ ہوگا، جو شاید برسوں سے مقدس مقامات کی زیارت کی آرزو اپنے دل میں بسائے ہوئے تھے۔ اس موقع پر “حُبُّ الحُسینِ یَجمَعُنا” (امام حسین کی محبت ہمیں ایک کرتی ہے) کا حقیقت سے بھرپور نعرہ ایک بار پھر سب کے سامنے نمایاں ہوگا اور ان شاء اللہ ہمارے آقا حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی دعا عراق کی قوم کے لیے امن، برکت اور ترقی کا سبب بنے گی، اللہ کے فضل و کرم سے۔
سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای
17 جولائی 2026
