قرآن ہمیں حکم دیتا ہے: وَأَعِدُّواْ لَهُم مَّا ٱستَطَعتُم مِّن قُوَّةࣲ وَمِن رِّبَاطِ ٱلخَيلِ تُرۡهِبُونَ بِهِۦ عَدُوَّ ٱللَّهِ وَعَدُوَّكُمۡ (انفال 60)، آپ کی موجودگی، آپ کی وضعیت اور آپ کی نقل و حرکت ایسی ہونی چاہیے کہ دشمن کے دل میں دہشت پیدا ہو۔ دشمن فطری طور پر جارح ہے؛ دنیا لوٹنے والوں کی فطرت میں جارحیت ہے، آگے آنا، تصرف کرنا اور حملہ کرنا؛ یہ ان کی فطرت میں ہے۔ اگر (دشمن) آپ کے مورچے میں نفوذ کے قابل ہوا تو وہ نفوذ کرے گا۔ لیکن آپ کو اس طرح رہنا چاہیے کہ دشمن یہ محسوس کرے کہ وہ نفوذ نہیں سکتا۔
آیت اللہ العظمیٰ شہید سید علی حسینی خامنہ ای
7 اکتوبر 2015
